hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12071

.

سنن البيهقي

12071
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۰۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ثُمَّ اعْرِفْ وِکَائَ ہَا وَعِفَاصَہَا ثُمَّ اسْتَنْفَقَ بِہَا فَإِنْ جَائَ رَبُّہَا فَأَدِّہَا إِلَیْہِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَضَالَّۃُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : خُذْہَا فَإِنَّمَا ہِیَ لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَضَالَّۃُ الإِبِلِ؟ قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاہُ أَوِ احْمَرَّ وَجْہُہُ قَالَ : مَا لَکَ وَلَہَا مَعَہَا حِذَاؤُہَا وَسِقَاؤُہَا حَتَّی یَلْقَاہَا رَبُّہَا ۔ وَقَالَ یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ : دَعْہَا حَتَّی یَلْقَاہَا رَبُّہَا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَقُتَیْبَۃَ وَعَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ۔ [صحیح]
(١٢٠٦٦) حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال تک اعلان کرو ۔ پھر اس کی تھیلی اور بندھن کو اچھی طرح پہچان لو۔ پھر اسے اپنے خرچہ میں شامل کرلو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دینا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! گم شدہ بکریوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ تیرے لیے ہیں یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑے کے لیے ہیں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! گمشدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ میں آگئے، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس میں کیا ہے ؟ اس کے ساتھ اس کا گھر اور سیراب کرنا ہے، یہاں تک کہ اسے اس کا مالک پالے۔