(۱۲۰۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً مِنْ مُزَیْنَۃَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّۃِ مِنَ الإِبِلِ فَقَالَ : مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا لاَ یَأْکُلُہَا الذِّئْبُ تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ مِنْ الشَّجَرَ فَدَعْہَا مَکَانَہَا حَتَّی یَأْتِیَ بَاغِیہَا ۔ قَالَ : فَضَالَّۃُ الْغَنَمِ؟ قَالَ : لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ اجْمَعْہَا حَتَّی یَأْتِیَ بَاغِیہَا ۔ قَالَ : اللُّقَطَۃُ نَجِدُہَا قَالَ : مَا کَانَ فِی الْعَامِرَۃِ وَالسَّبِیلِ الْعَامِرَۃِ فَعَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ جَائَ بَاغِیہَا فَأَدِّہَا إِلَیْہِ وَإِلا فَہِیَ لَکَ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَا یُوجَدُ فِی الْقَرْیَۃِ الْخَرَابِ الْعَادِیِّ قَالَ : فِیہِ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ ۔ وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ وَبِمَعْنَاہُ قَالَ فِیہِ : فَکَیْفَ تَرَی فِی ضَالَّۃِ الْغَنَمِ قَالَ : طَعَامٌ مَأْکُولٌ لَکَ أَوْ لأَخِیکِ أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَی أَخِیکِ ضَالَّتَہُ ۔
وَقَدْ مَضَی بِإِسْنَادِہِ فِی کِتَابِ الزَّکَاۃِ۔ [حسن۔ ابوداود ۱۷۰۸۔ ترمذی ۱۲۸۹]
(١٢٠٦٨) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے مزینہ کے ایک آدمی سے سنا، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا اور میں سن رہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے ساتھ اس کا گھر اور سیراب کرنے کی چیز ہے۔ اسے بھیڑیا نہیں کھا سکتا۔ وہ پانی پی لیتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے۔ اسے اس کی جگہ پر چھوڑ دو یہاں تک اس کو تلاش کرنے والا آجائے۔ اس نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے۔ اس کو پکڑ لو یہاں تک کہ اس کو تلاش کرنے والا آجائے۔ اس نے کہا : جو گری پڑی چیز ہم پالیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آبادی میں ہو یا آباد راستے میں اسے ایک سال تک متعارف کراؤ۔ اگر اسے تلاش کرنے والا آجائے تو اسے دے دو ورنہ وہ تیرے لیے ہے، اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! جو کسی غیر آباد جگہ سے ملے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں اور رکاز میں خمس ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس نے کہا : گمشدہ بکری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کھانا ہے جو تیرے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے ؟ اسے روک لو اپنے بھائی کے لیے جس نے اسے گم کیا ہے۔