hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12081

.

سنن البيهقي

12081
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۰۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَیْرِیَۃِ قَالَ سَمِعْتُ أَعْرَابِیًّا مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ سَأَلَہُ یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ : مَا تَرَی فِی الضَّوَالِّ قَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَہُو ضَالٌّ۔ قَالَ : مَا تَرَی فِی الضَّوَالِّ قَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَہُو ضَالٌّ ثُمَّ سَکَتَ الرَّجُلُ وَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُفْتِی النَّاسَ یَقُولُ أَبُو الْجُوَیْرِیَۃِ فَتْوًی کَثِیرَۃً لاَ أَحْفَظُہَا فَقَالَ الأَعْرَابِیُّ : أَرَاکَ قَدْ أَصْدَرْتَ النَّاسَ غَیْرِی أَفَتُرَی لِی تَوْبَۃً قَالَ : وَیْلَکَ لاَ تَسْأَلْ ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ قَالَ : وَمَا أَشَدَّ مَسْأَلَتَکَ قَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ وَأَجْلَ مَا صَنَعْتُ۔ قَالَ : أَتَدْرِی مَا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ) حَتَّی فَرَغَ مِنَ الآیَۃِ کُلِّہَا قَالَ : کَانَ قَوْمٌ یَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتِہْزَائً فَیَقُولُ الرَّجُلُ : مَنْ أَبِی وَیَقُولُ الرَّجُلُ تَضِلُّ نَاقَتَہُ أَیْنَ نَاقَتِی؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ ہَذِہِ الآیَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مُخْتَصَرًا۔ [بخاری ۴۶۲۲]
(١٢٠٧٦) ابوالجویرہ سے روایت ہے کہ میں نے بنی سلیم کے ایک دیہاتی سے سنا اس نے ابن عباس (رض) سے گمشدہ چیز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : جس نے گمشدہ چیز سے کھایا وہ گمراہ ہے پھر وہ آدمی خاموش ہوگیا اور ابن عباس (رض) لوگوں میں فتویٰ دینے میں مصروف ہوگئے، ابوالجویریہ کہتے ہیں : وہ بہت زیادہ فتوے دیتے تھے، جنہیں میں یاد نہیں رکھ سکا۔ دیہاتی نے کہا : میں خیال کرتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے علاوہ لوگوں کو روکا ہوا ہے، آپ کے خیال میں میرے لیے توبہ ہے ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : تیری ہلاکت ہو اس بارے سوال نہ کر اور کہا : تیرا مسئلہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں جب سے میں نے یہ کام کیا، ابن عباس (رض) نے کہا : کیا تو جانتا ہے یہ آیت کس بارے نازل ہوئی : اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں نقصان پہنچے۔ جب آیت پڑھ کر فارغ ہوئے تو کہا : لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مذاقاً سوال کرتے تھے، آدمی کہتا : میرا باپ کون ہے ؟ یا کہتا میری اونٹنی گم ہوگئی ہے، میری اونٹنی کہاں ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔