(۱۲۱۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی رَجُلٍ سَیَّبَ دَابَّتَہُ فَأَخَذَہَا رَجُلٌ فَأَصْلَحَہَا قَالَ قَالَ الشَّعْبِیُّ : ہَذَا قَدْ قُضِیَ فِیہِ إِنْ کَانَ سَیَّبَہَا فِی کَلأٍ وَمَائٍ وَأَمْنٍ فَصَاحِبُہَا أَحَقُّ بِہَا وَإِنْ کَانَ سَیَّبَہَا فِی مَفَازَۃٍ وَمَخَافَۃٍ فَالَّذِی أَخَذَہَا أَحَقُّ بِہَا۔[صحیح]
(١٢١١٦) شعبی سے اس آدمی کے بارے میں منقول ہے جو اپنے جانور کو بیماری کی وجہ سے چھوڑ دے، پھر اسے کوئی آدمی پکڑ لے اور اس کو درست کردے شعبی نے کہا : اس میں فیصلہ یہ ہے اگر وہ اس کا علاج، گھاس پانی سے کرے تو اس کا اصل مالک اس کا زیادہ حق دار ہے اور اگر وہ اس کا علاج کامیابی اور ڈر کی حالت میں کرے تو اسے پکڑنے والا اس کا حق دار ہے۔