(۱۲۱۱۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُہَلْہِلٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : إِنَّ ہَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللَّہُ لَمْ یَحِلَّ فِیہِ الْقَتْلُ لأَحَدٍ قَبْلِی وَإِنَّہَا َہِیَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللَّہُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہُ وَلاَ یُعْضَدُ شَوْکُہُ وَلاَ یَلْتَقِطُ لُقَطَتَہُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَہَا وَلاَ یُخْتَلَی خَلاَہُ ۔ فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّہُ لِبَیُوتِہِمْ فَقَالَ : إِلاَّ الإِذْخِرَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ جَرِیرٍ عَنْ مَنْصُورٍ۔ [صحیح]
(١٢١١٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فتح مکہ کے دن یہ شہر حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے حرمت والا بنایا ہے اس میں قتل کرنا حلال نہیں ہے۔ کسی کے لیے مجھ سے پہلے اور بیشک وہ حرمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرمت والا بنایا ہے، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور نہ اس کے کانٹوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے مگر وہ شخص اٹھائے جو اس کا اعلان کرے اور نہ اس کے درختوں کو اکھاڑا جائے۔ حضرت عباس (رض) نے فرمایا : مگر اذخر وہ گھروں کی چھتوں کے کام آتی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اذخر کی اجازت ہے۔