hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12127

.

سنن البيهقي

12127
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۱۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ : أَنَّ رَہْطًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- انْطَلَقُوا فِی سَفْرَۃٍ سَافَرُوہَا فَنَزَلُوا بِحَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوہُمْ فَأَبَوْا أَنْ یُضَیِّفُوہُمْ قَالَ فَلُدِغَ سَیِّدُ ذَلِکَ الْحَیِّ فَسَعَوْا لَہُ بِکُلِّ شَیْئٍ لاَ یَنْفَعُہُ شَیْئٌ قَالَ بَعْضُہُمْ : لَوْ أَتَیْتُمْ ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ نَزَلُوا بِکُمْ لَعَلَّ یَکُونَ عِنْدَ بَعْضِہِمْ مَنْ یَنْفَعُ صَاحِبَکُمْ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : أَیُّہَا الرَّہْطَ إِنَّ سَیِّدَنَا لَدِیغٌ فَسَعَیْنَا لَہُ بِکُلِک شَیْئٍ فَہَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْکُمْ مَا یَنْفَعُ صَاحِبَنَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : نَعَمْ إِنِّی لأَرْقِی وَلَکِنِ اسْتَضَفْنَاکُمْ فَأَبَیْتُمْ أَنْ تُضِیِّفُونَا وَمَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّی تَجْعَلُوا لِی جُعْلاً فَجَعَلُوا لَہُ قَطِیعًا مِنَ الشَّائِ قَالَ فَأَتَاہُ فَقَرَأَ عَلَیْہِ أُمَّ الْکِتَابِ وَیَتْفِلُ عَلَیْہِ حَتَّی بَرَأَ کَأَنَّہُ نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ قَالَ فَأَوْفَاہُمْ فَجَعَلَ لَہُمْ الَّذِی صَالَحُوہُ عَلَیْہِ فَقَالَ اقْسِمُوا فَقَالَ الَّذِی رَقَی : لاَ تَفْعَلُوا حَتَّی نَأْتِیَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَنَسْتَأْمِرُہُ فَغَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرُوا لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مِنْ أَیْنَ عَلِمْتَ أَنَّہَا رُقْیَۃٌ ۔ وَقَالَ : أَحْسَنْتُمْ فَاقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِی مَعَکُمْ بِسَہْمٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ۔ وَہُوَ فِی ہَذَا کَالدِّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ الْجُعْلَ إِنَّمَا یَکُونُ مُسْتَحَقًا بِالشَّرْطِ۔ [بخاری ۲۲۷۶۔ مسلم ۲۲۰۱]
(١٢١٢٢) حضرت ابو سعید (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کا ایک گروہ سفر پر گیا، وہ ایک قبیلے کے پاس اترے عرب کے قبائل میں سے۔ ان سے مہمان نوازی طلب کی۔ لیکن انھوں نے مہمان نوازی کرنے کا انکار کردیا، ان کے سردار کو کسی کیڑے نے ڈس لیا ۔ انھوں نے اس کے لیے کوشش کی، لیکن اسے فائدہ نہ ہوا۔ ان کے بعض لوگوں نے کہا : اگر تم ان اترنے والوں (صحابہ) کے پاس جاؤ تو ہوسکتا ہے ان میں کوئی ایسا ہو جو سردار کو نفع دے سکے۔ اب کچھ لوگوں نے کہا : اے قافلے والو ! ہمارے سردار کو کسی موزی چیز نے ڈس لیا ہے ہم نے اس کے لیے کوشش کی ہے کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو ہمارے سردار کو آرام پہنچا سکے ؟ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا : ہاں میں دم کرسکتا ہوں، لیکن ہم نے تم سے مہمان نوازی چاہی تھی تم نے انکار کردیا تھا۔ اس لیے میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم میرے لیے کوئی اجرت مقرر نہیں کردیتے، انھوں نے بکری کا کچھ حصہ معاوضہ طے کرلیا۔ وہ صحابی اس کے پاس آئے اور اس پر سورة فاتحہ پڑھی اور اس پر تھوکا۔ یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوگیا جیسا کہ وہ رسی سے آزاد ہوگیا، انھوں نے اسے پورا بدلہ جو طے کیا تھا وہ دیا، ایک نے کہا : اس (اجرت) کو تقسیم کرلو۔ جس نے دم کیا تھا اس نے کہا نہ کرو، یہاں تک کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اس بارے میں دریافت کرلیں، صبح کے وقت وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور قصہ بیان کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے کیسے معلوم کیا کہ وہ دم ہے اور فرمایا : تم نے اچھا کیا۔ اسے تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھنا۔
یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجرت کا مستحق شرط کے ساتھ بن سکتا ہے۔