(۱۲۱۲۶) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْقَسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَیْقٍ وَعُمَرَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمٍ یُقَالُ لَہُ حَزْنٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ قَالَ : جِئْتُ بِعَبْدٍ آبِقٍ مِنَ السَّوَادِ فَانْفَلَتَ مِنِّی فَخَاصَمُونِی إِلَی شُرَیْحٍ فَضَمَّنَنِیہِ قَالَ فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : کَذَبَ شُرَیْحٌ وَأَخْطَأَ الْقَضَائُ یُحَلَّفُ الْعَبْدُ الأَسْوَدُ لِلْعَبْدِ الأَحْمَرِ لاَنْفَلَتْ مِنْہُ انْفِلاَتًا ثُمَّ لاَ شَیْئَ عَلَیْہِ۔ [ضعیف]
(١٢١٢٦) حضرت عمرو بن سعید خثعم کے ایک آدمی سے جسے حزن کہا جاتا تھا بیان کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں لشکر میں سے بھاگا ہوا ایک غلام لایا، لیکن وہ مجھ سے بھی بھاگ گیا، انھوں نے مجھے شریح پر پیش کیا، شریح نے مجھے ذمہ دار ٹھہرایا۔ حضرت علی (رض) کی طرف یہ بات پہنچی تو انھوں نے کہا : شریح نے جھوٹ بولا ہے اور فیصلہ کرنے میں غلطی کی ہے۔ سیاہ غلام سے سرخ غلام کے لیے قسم لی جائے گی۔ اگر واقعی اس سے بھاگ گیا ہے تو اس پر کوئی چیز نہیں ہے۔