(۱۲۱۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ عُلَیٍّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِیَۃِ فَقَالَ : مَنْ أَرَادَ أَنْ یَسْأَلَ عَنِ الْقُرْآنِ فَلْیَأْتِ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ یَسْأَلَ عَنِ الْفَرَائِضِ فَلْیَأَتِ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ یَسْأَلَ عَنِ الْفِقْہِ فَلْیَأْتِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ یَسْأَلَ عَنِ الْمَالِ فَلْیَأْتِنِی فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی جَعَلَنِی لَہُ خَازِنًا وَقَاسِمًا۔ [ضعیف]
(١٢١٨٩) موسیٰ بن علی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو جابیہ کے مقام پر خطبہ دیا، فرمایا : جو قرآن سے متعلق سوال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ ابی بن کعب کے پاس جائے اور جو فرائض سے متعلق سوال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ زید بن ثابت کے پاس جائے اور جو فقہ کے بارے سوال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ معاذ بن جبل کے پاس جائے اور جو مال کے متعلق سوال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے میرے پاس آجائے اس لیے کہ اللہ نے مجھے خزانچی اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے۔