(۱۲۲۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ عَلِّمُوا غِلْمَانَکُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَکُمُ الرَّمْیَ قَالَ وَکَانُوا یَخْتَلِفُونَ بَیْنَ الأَغْرَاضِ فَجَائَ سَہْمُ غَرْبٍ فَأَصَابَ غُلاَمًا فَقَتَلَہُ فِی حِجْرِ خَالٍ لَہُ لاَ یُعْلَمُ لَہُ أَصْلٌ قَالَ فَکَتَبَ أَبُو عُبَیْدَۃَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَسْأَلُہُ إِلَی مَنْ یَدْفَعُ عَقْلَہُ قَالَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ مَوْلَی مَنْ لاَ مَوْلَی لَہُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَہُ ۔ [حسن لغیرہ۔ احمد ۱/ ۲۸/ ۱۸۹۔ ابن ماجہ ۲۷۳۷]
(١٢٢٠٨) حضرت ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ابوعبیدہ بن جراح (رض) کی طرف خط لکھا کہ اپنے غلاموں کو تیرنا سکھاؤ اور اپنے فوجیوں کو تیراندازی سکھاؤ اور وہ مقاصد میں اختلاف کر رہے تھے۔ پس غربی جانب سے ایک تیر آیا اور ایک غلام کو لگا اور اس کو قتلکر دیا، اس کے ماموں کی گود میں اس کی اصل کا پتہ نہ چلا، راوی کہتے ہیں : ابوعبیدہ (رض) نے حضرت عمر (رض) کی طرف لکھا اور سوال کیا کہ اس کی دیت کس کو دیں ؟ حضرت عمر (رض) نے جواب دیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے والی ہیں، جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں اس کا وارث ہوگا جس کا کوئی وارث نہ ہو۔