hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12244

.

سنن البيهقي

12244
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۲۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ یُدْعَی قَتَادَۃَ کَانَتْ لَہُ أُمُّ وَلَدٍ وَکَانَ لَہُ مِنْہَا ابْنَانِ فَتَزَوَّجَ عَلَیْہَا امْرَأَۃً مِنَ الْعَرَبِ فَقَالَتْ لاَ أَرْضَی عَنْکَ حَتَّی تَرْعَی عَلَیَّ أُمُّ وَلَدِکَ فَأَمَرَہَا أَنْ تَرْعَی عَلَیْہَا فَأَبَی ابْنَاہَا ذَلِکَ فَتَنَاوَلَ قَتَادَۃُ أَحَدَ ابْنَیْہِ بِالسَّیْفِ فَمَاتَ فَقَدِمَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ لَہُ : اعْدُدْ لِی بِقُدَیْدٍ وَہِیَ أَرْضُ بَنِی مُدْلِجٍ عِشْرِینَ وَمِائَۃً مِنَ الإِبِلِ فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ أَخَذَ ثَلاَثِینَ جَذَعَۃً وَثَلاَثِینَ حِقَّۃً وَأَرْبَعِینَ خَلِفَۃً ثُمَّ قَالَ : أَیْنَ أَخُ الْمَقْتُولِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لَیْسَ لِلْقَاتِلِ شَیْئٌ ۔ ہَذِہِ مَرَاسِیلٌ جَیِّدَۃٌ یَقْوَی بَعْضُہَا بِبَعْضٍ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً مِنْ أَوْجُہٍ۔ [ضعیف]
(١٢٢٣٩) حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ بنی مدلج کا ایک آدمی جس کا نام قتادہ تھا، اس کی ام ولد تھی، اس سے دو بیٹے تھے، قتادہ نے عرب کی ایک عورت سے شادی کی۔ اس عرب عورت نے کہا : میں تجھ سے اس صورت میں خوش ہوں کہ تو اپنی ام ولد سے کہہ کہ وہ میری خدمت کیا کرے۔ قتادہ نے ام ولد کو حکم دیا کہ اس کی خدمت کیا کر، لیکن اس کے بیٹوں نے انکار کردیا، قتادہ تلوار لے کر ایک بیٹے کے در پے ہوئے وہ مرگیا۔ سراقہ بن مالک حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور یہ سارا ماجرا ذکر کیا تو حضرت عمر (رض) نے اسے کہا : میرے لیے سواری تیار کرو اور قتادہ اسی وقت بنی مدلج کی زمین میں ایک سو بیس اونٹوں کے ساتھ رہتے تھے، جب عمر (رض) آئے تو تیس اونٹ جذعہ، تیس حصی اور چالیس حاملہ پکڑے پھر کہا : مقتول کا بھائی کہاں ہے ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاتل کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔