(۱۲۲۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : سُئِلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الْکَلاَلَۃِ فَقَالَ : إِنِّی سَأَقُولُ فِیہَا بِرَأَیِی فَإِنْ یَکُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّہِ وَإِنْ یَکُ خَطَأً فَمِنِّی وَمِنَ الشَّیْطَانِ أُرَاہُ مَا خَلاَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِنِّی لأَسْتَحْیِی اللَّہَ أَنْ أَرُدَّ شَیْئًا قَالَہُ أَبُو بَکْرٍ۔ [حسن]
(١٢٢٦٣) شعبی سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا : میں اپنی رائے دوں گا اگر وہ صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے۔ اگر غلط ہو تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے۔ کلالہ میرے نزدیک وہ ہے جس کی اولاد اور والدین نہ ہوں، پس جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنائے گئے تو کہا : مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ میں ابوبکر کی کہی ہوئی بات کا انکار کروں۔