(۱۲۲۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ مَعَانِی ہَذِہ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَہَا عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَمَّا التَّفْسِیرُ فَتَفْسِیرُ أَبِی الزِّنَادِ عَلَی مَعَانِی زَیْدٍ قَالَ : وَمِیرَاثُ الْجَدَّاتِ أَنَّ أُمَّ الأُمِّ لاَ تَرِثُ مَعَ الأُمِّ شَیْئًا وَہِیَ فِیمَا سِوَی ذَلِکَ یُفْرَضُ لَہَا السُّدُسُ فَرِیضَۃً وَأَنَّ أُمَّ الأَبِ لاَ تَرِثُ مَعَ الأُمِّ وَلاَ مَعَ الأَبِ شَیْئًا وَہِیَ فِیمَا سِوَی ذَلِکَ یُفْرَضُ لَہَا السُّدُسُ فَرِیضَۃً۔ [ضعیف]
(١٢٢٩١) خارجہ بن زید (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اس فرائض کے مفاہیم اور اصول زید بن ثابت سے منقول ہیں اور ان کی تفسیر ابو الزناد سے ہے، اس میں ہے کہ نانی ماں کی موجودگی میں کسی چیز کی حق دار نہیں ہے اور یہ سدس حصہ کے علاوہ ہے اور دادی ماں اور باپ کی موجودگی میں کسی چیز کی وارث نہیں ہوگی اور یہ سدس حصہ کے علاوہ ہے۔