(۱۲۲۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الْخَلاَّلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ مَعَانِیَ ہَذِہِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَہَا عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَمَّا التَّفْسِیرُ فَتَفْسِیرُ أَبِی الزِّنَادِ عَلَی مَعَانِی زَیْدٍ قَالَ : وَمِیرَاثُ الأُمِّ مِنْ وَلَدِہَا إِذَا تُوُفِّیَ ابْنُہَا أَوِ ابْنَتُہَا فَتَرَکَ وَلَدًا أَوْ وَلَدَ ابْنٍ ذِکْرًا أَوْ أُنْثَی أَوْ تَرَکَ اثْنَیْنِ مِنَ الإِخْوَۃِ فَصَاعِدًا ذُکُورًا أَوْ إِنَاثًا مِنْ أَبٍ وَأُمٍّ أَوْ مِنْ أَبٍ أَوْ مِنْ أُمٍّ السُّدُسُ فَإِنْ لَمْ یَتْرُکِ الْمُتَوَفَّی وَلَدًا وَلاَ وَلَدَ ابْنٍ وَلاَ اثْنَیْنِ مِنَ الإِخْوَۃِ فَصَاعِدًا فَإِنْ لِلأُمِّ الثُّلُثَ کَامِلاً إِلاَّ فِی فَرِیضَتَیْنِ فَقَطْ وَہُمَا : أَنْ یُتَوَفَّی رَجُلٌ وَیَتْرُکَ امْرَأَتَہُ وَأَبَوَیْہِ فَیَکُونُ لاِمْرَأَتِہِ الرُّبُعُ وَلأُمِّہِ الثُّلُثُ مِمَّا بَقِیَ وَہُوَ الرُّبُعُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ وَأَنْ تُتُوَفَّی امْرَأَۃٌ وَتَتْرُکَ زَوْجَہَا وَأَبَوَیْہَا فَیَکُونُ لِزَوْجِہَا النِّصْفُ وَلأُمِّہَا الثُّلُثُ مِمَّا بَقِیَ وَہُوَ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ۔ [ضعیف]
(١٢٢٩٤) حضرت خارجہ بن زید اپنے والد سے تفسیر ابی الزناد کے مطابق نقل فرماتے ہیں کہ ماں کی وراثت جبکہ اس کا بیٹا یا بیٹی فوت ہوجائے اور اس کی اولاد یا پوتے ہوں، مذکر ہوں یا مونث یا اس کے دو بھائی ہوں مذکر ہوں یا مونث حقیقی، علاتی، یا اخیافی تو ماں کے لیے چھٹا حصہ ہوگا، اگر میت اوپر والے سارے رشتہ دار نہ چھوڑے تو ماں کے لیے ثلث کامل ہوگا مگر صرف دو حصوں میں اور وہ دونوں یہ ہیں کہ آدمی فوت ہوجائے اور بیوی اور والدین کو چھوڑے تو اس کی بیوی کے لیے ربع ہوگا اور ماں کے باقی کا ثلث ہوگا اور وہ اصل مال کا ربع ہے اور اگر عورت فوت ہوجائے اور اپنا خاوند اور والدین چھوڑے تو خاوند کے لیے نصف ہوگا اور ماں کے لیے باقی کا ثلث ہوگا اور وہ اصل مال کا سدس ہے۔