(۱۲۳۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَہَانِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ بِمِثْلِہِ قَالَ : فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ قَالَ فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَیْہِ فَقُلْ لَہُ : أَبِکِتَابِ اللَّہِ قُلْتَ أَمْ بِرَأْیِکَ؟ قَالَ : فَأَتَیْتُہُ فَقَالَ : بِرَأَیِی فَرَجَعْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَنَا أَقُولُ بِرَأَیِی لِلأُمِّ الثُّلُثُ کَامِلاً۔ [صحیح لغیرہ۔ دون قولہ وانا اقول برأبی]
(١٢٣٠٦) عکرمہ کہتے ہیں : میں ابن عباس (رض) کے پاس آیا، میں نے خبر دی۔ ابن عباس (رض) نے کہا : جاؤ واپس لوٹ جاؤ اور زید سے کہا : کیا آپ کتاب اللہ کے ساتھ کہتے ہو یا اپنی رائے سے ؟ عکرمہ کہتے ہیں : میں گیا تو زید نے کہا : اپنی رائے سیکہتا ہوں۔ میں نے لوٹ کر ابن عباس (رض) کو خبر دی تو ابن عباس (رض) نے کہا اور میں بھی اپنی رائے سے کہتا ہوں : ماں کے لیے کل مال کا ثلث ہے۔