(۱۲۳۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ : قَدِمَ مَسْرُوقٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ وَہُوَ یُشْرِکُ بَیْنَہُمْ فَقَالَ لَہُ عَلْقَمَۃُ : أَکَانَ أَحَدٌ أَثْبَتَ عِنْدَکَ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : لاَ وَلَکِنِّی قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَرَأَیْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَأَہْلَ الْمَدِینَۃِ یُشْرِکُونَ بَیْنَہُمْ فِی رَجُلٍ تَرَکَ أَخَوَاتٍ لأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَۃً وَأَخَوَاتٍ لأَبٍ وَتَرَکَ بَنَاتٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ وَبَنِی ابْنٍ۔ [صحیح]
(١٢٣١٥) علقمہ فرماتے ہیں : مسروق مدینہ سے آئے اور وہ ان کو شریک کرتے تھے، علقمہ نے انھیں کہا : کیا آپ کے پاس کوئی ایسا ہے جو اسے عبداللہ سے ثابت کرے۔ مسروق نے کہا : نہیں لیکن میں مدینہ میں گیا میں نے زید بن ثابت (رض) اور مدینہ والوں کو دیکھا، وہ ایسے آدمی میں شریک کرتے تھے جس نے حقیقی بہنیں، بھائی، علاتی بہنیں، بیٹیاں، پوتیاں اور پوتے چھوڑے ہوں۔