hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12342

.

سنن البيهقي

12342
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۳۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَۃَ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ قَالَ : جَائَ تِ الْجَدَّۃُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا فَقَالَ لَہَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا لَکِ فِی کِتَابِ اللَّہِ شَیْئٌ وَمَا عَلِمْتُ لَکِ فِی سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- شَیْئًا فَارْجِعِی حَتَّی أَسْأَلَ النَّاسَ فَقَالَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَعْطَاہَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : ہَلْ مَعَکَ غَیْرُکَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ الأَنْصَارِیُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِیرَۃُ فَأَنْفَذَہُ لَہَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ جَائَ تِ الْجَدَّۃُ الأُخْرَی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا فَقَالَ : مَا لَکِ فِی کِتَابِ اللَّہِ شَیْئٌ وَمَا کَانَ الْقَضَائُ الَّذِی قُضِیَ بِہِ إِلاَّ لِغَیْرِکِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِی الْفَرَائِضِ شَیْئًا وَلَکِنْ ہُوَ ذَلِکَ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِیہِ فَہُوَ بَیْنَکُمَا وَأَیَّتُکُمَا خَلَتْ بِہِ فَہُوَ لَہَا۔
(١٢٣٣٧) قبیصہ بن زوئب فرماتے ہیں : ایک جدۃ (دادی، نانی) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئی اور اپنی میراث کا سوال کیا، ابوبکر (رض) نے اسے کہا : تیرے لیے اللہ کی کتاب میں کچھ نہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں نہیں جانتا کہ تیرے لیے کچھ ہو تو لوٹ جا اور لوگوں سے پوچھ۔ مغیرہ بن شعبہ (رض) نے کہا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جدۃ کو سدس دیا، ابوبکر (رض) نے کہا : تیرے ساتھ کوئی اور بھی تھا تو محمد بن سلمہ انصاری کھڑے ہوئے، انھوں نے مغیرہ کی مثل کہا تو حضرت ابوبکر (رض) نے اس کے لیے میراث مقرر کردی، پھر ایک دوسری جدۃ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئی اور ان سے میراث کا سوال کیا، انھوں نے کہا : اللہ کی کتاب میں تیرے لیے کوئی چیز نہیں اور جو فیصلہ کیا تھا، وہ تیرے علاوہ کے لیے تھا اور میں فرائض میں کچھ زیادتی نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر میں تم دونوں کو اکٹھے پاتا تو سدس دونوں کو دے دیتا اور تم دونوں میں سے جو گزر جاتی وہ اس کے لیے تھا۔ [صحیح ]