(۱۲۳۷۲) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَصْبَہَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ أَصْحَابِہِ فِی قَوْلِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ : إِذَا تَرَکَ الْمُتَوَفَّی ابْنًا فَالْمَالُ لَہُ فَإِنْ تَرَکَ ابْنَیْنِ فَالْمَالُ بَیْنَہُمَا فَإِنْ تَرَکَ ثَلاَثَۃَ بَنِینَ فَالْمَالُ بَیْنَہُمْ بِالسَّوِیَّۃِ فَإِنْ تَرَکَ بَنِینَ وَبَنَاتٍ فَالْمَالُ بَیْنَہُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ فَإِنْ لَمْ یَتْرُکْ وَلَدًا لِلصُّلْبِ وَتَرَکَ بَنِی ابْنٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ نَسَبُہُمْ إِلَی الْمَیِّتِ وَاحِدٌ فَالْمَالُ بَیْنَہُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ وَہُمْ بِمَنْزِلَۃِ الْوَلَدِ إِذَا لَمْ یَکُنْ وَلَدٌ وَإِذَا تَرَکَ ابْنًا وَابْنَ ابْنٍ فَلَیْسَ لاِبْنِ الاِبْنِ شَیْئٌ وَکَذَلِکَ إِذَا تَرَکَ ابْنَ ابْنٍ وَأَسْفَلَ مِنْہُ ابْنُ ابْنٍ وَبَنَاتُ ابْنِ أَسْفَلَ فَلَیْسَ لِلَّذِی أَسْفَلَ مِنَ ابْنِ الاِبْنِ مَعَ الأَعْلَی شَیْئٌ کَمَا أَنَّہُ لَیْسَ لاِبْنِ الاِبْنِ مَعَ الاِبْنِ شَیْئٌ۔
قَالَ : وَإِنْ تَرَکَ أَبَاہُ وَلَمْ یَتِرَکْ أَحَدًا غَیْرَہُ فَلَہُ الْمَالُ وَإِنْ تَرَکَ أَبَاہُ وَتَرَکَ ابْنًا فَلِلأَبِ السُّدُسُ وَمَا بَقِیَ فَلِلاِبْنِ وَإِنْ تَرَکَ ابْنَ ابْنٍ وَلَمْ یَتْرُکِ ابْنًا فَابْنُ الاِبْنِ بِمَنْزِلَۃِ الاِبْنِ۔ [ضعیف]
(١٢٣٧٢) حضرت مغیرہ اپنے اصحاب سے زید بن ثابت، علی بن ابی طالب اور ابن مسعود (رض) کے قول میں فرماتے ہیں : جب میت بیٹے کو چھوڑے تو مال اس کا ہے، اگر دو بیٹے چھوڑے تو دونوں کا ہے، اگر تین بیٹے ہوں تو مال تینوں میں برابر برابر ہوگا، اگر بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو مال لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ کے تحت ہوگا۔ اگر صلبی اولاد نہ ہو اور پوتے پوتیاں ہوں اور ان کا نسب میت تک ایک ہی ہو تو مال ان کے درمیان فلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ کے تحت ہوگا۔ جب اولاد نہ ہو تو وہ اولاد کی مانند ہیں اور جب بیٹا اور پوتا ہو تو پوتے کے لیے کچھ نہیں اور اسی طرح جب پوتا ہو اور اس سے نیچے بھی پوتے پوتیاں ہوں تو نچلے والوں کے لیے اعلیٰ کے ساتھ کوئی حصہ نہیں جس طرح بیٹے کی موجودگی میں پوتا حق دار نہیں ہے۔
اگر باپ چھوڑے اس کے علاوہ کوئی نہ ہو تو مال اس کا ہے اور اگر باپ اور بیٹا ہو تو باپ کے لیے سدس اور بیٹے کے لیے باقی مال ہے اور اگر پوتا ہو بیٹا نہ ہو تو پوتا بیٹے کی مانند ہے۔