(۱۲۳۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْم حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ وَأَنْتُم تَقْرَئُ ونَ {مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا أَوْ دَیْنٍ} وَإِنَّ أَعْیَانَ بَنِی الأُمِّ یَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِی الْعَلاَّتِ ، الإِخْوَۃُ وَالأَخَوَاتُ لِلأَبِ وَالأُمِّ دُونَ الإِخْوَۃِ وَالأَخَوَاتِ لِلأَبِ۔ [ضعیف]
(١٢٣٧٥) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرض کا فیصلہ وصیت سے پہلے کیا اور تم پڑھتے ہو : { مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا أَوْ دَیْنٍ } اور ماں کی اولاد وارث ہوگی، علاتی اولاد کے علاوہ اور حقیقی بہن بھائی کے علاوہ اور علاتی بہن کے علاوہ (وارث ہوگی) ۔