(۱۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِی أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: ذُکِرَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-امْرَأَۃٌ مِنَ الْعَرَبِ۔فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
قَالَ سَہْلٌ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-یَوْمَئِذٍ حَتَّی جَلَسَ فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ وَأَصْحَابُہُ، ثُمَّ قَالَ: اسْقِنَا یَا سَہْلُ ۔قَالَ: فَأَخْرَجْتُ لَہُمْ ہَذَا الْقَدَحَ فَسَقَیْتُہُمْ فِیہِ۔
قَالَ أَبُو حَازِمٍ:فَأَخْرَجَ إِلَیْنَا سَہْلٌ ذَلِکَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا فِیہِ -قَالَ -ثُمَّ اسْتَوْہَبَہُ إِیَّاہُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَوَہَبَہُ لَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ إِسْحَاقَ وَغَیْرِہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ۔
(ت) وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِی قَدَحِ النَّبِیِّ -ﷺ-وَفِیہِ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ مِنْ خَشَبٍ۔وَیُذْکَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی إِسْمَاعِیلَ: أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَرَأَی فِی بَیْتِہِ قَدَحًا مِنْ خَشَبٍ فَقَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ-یَشْرَبُ فِیہِ وَیَتَوَضَّأُ۔ [صحیح أخرجہ البخاری ۵۳۱۴]
(١٢٥) (الف) سیدنا سہل بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس عرب کی ایک عورت کا تذکرہ کیا گیا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) آئے اور بنی ساعدہ کے سائبان میں بیٹھ گئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : ” اے سہل ! ہم کو پانی پلاؤ، سہل کہتے ہیں : ہم نے آپ کے لیے یہ پیالہ نکالا اور آپ کو اس میں پانی پلایا۔
(ب) ابو حازم کہتے ہیں : سہل نے ہماری طرف یہ پیالہ نکالا، ہم نے اس میں پانی پیا ۔ پھر عمر بن عبد العزیز نے ان سے یہ پیالہ مانگا تو انھوں نے دے دیا۔
(ج) محمد بن ابی اسماعیل (رح) سے روایت ہے کہ میں انس بن مالک (رض) کے پاس گیا، انھوں نے میرے گھر میں لکڑی کا پیالہ دیکھا تو فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں پیتے اور وضو کرتے تھے۔