(۱۲۴۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلاَّلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ مَعَانِیَ ہَذِہِ الْفَرَائِضَ وَأُصُولَہَا عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَمَّا التَّفْسِیرُ فَتَفْسِیرُ أَبِی الزِّنَادِ عَلَی مَعَانِی زَیْدٍ قَالَ : وَمِیرَاثُ الْجَدِّ أَبِی الأَبِ أَنَّہُ لاَ یَرِثُ مَعَ أَبٍ دِنْیًا شَیْئًا وَہُوَ مَعَ الْوَلَدِ الذِّکْرِ وَمَعَ ابْنِ الاِبْنِ یُفْرَضُ لَہُ السُّدُسُ وَفِیمَا سِوَی ذَلِکَ مَا لَمْ یَتْرُکِ الْمُتَوَفَّی أَخًا أَوْ أُخْتًا مِنْ أَبِیہِ یُخَلَّفُ الْجَدُّ وَیُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرَکَہُ مِنْ أَہْلِ الْفَرَائِضِ فَیُعْطَی فَرِیضَتَہُ فَإِنْ فَضَلَ مِنَ الْمَالِ السُّدُسَ فَأَکْثَرَ مِنْہُ کَانَ لِلْجَدِّ وَإِنْ لَمْ یَفْضُلِ السُّدُسُ فَأَکْثَرَ مِنْہُ فَلِلْجَدِّ السُّدُسُ۔ [ضعیف]
(١٢٤١٠) حضرت خارجہ بن زید (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ دادا کی میراث یہ ہے کہ وہ باپ کے ساتھ کسی چیز کا وارث نہیں بنتا اور وہ (جد) مذکر اولاد اور پوتے کے ساتھ سدس کا حق دار بنتا ہے اور اس کے علاوہ جب میت علاتی بھائی یا بہن نہ چھوڑے تو دادا کو خلیفہ بنایا جاتا ہے اور پہلے اہل فرائض کے حصے دیے جائیں گے، پھر اگر مال سدس سے زیادہ ہوا تو دادا کو دے دیا جائے گا، اگر سدس سے زائد نہ ہو تو سدس ہی دادا کو دیا جائے گا۔
(٤٠) باب التَّشْدِیدِ فِی الْکَلاَمِ فِی مَسْأَلَۃِ الْجَدِّ مَعَ الأُخْوَۃِ لِلأَبِ وَالأُمِّ أَوْ لِلأَبِ مِنْ غَیْرِ اجْتِہَادٍ وَکَثْرَۃِ الاِخْتِلاَفِ فِیہَا
حقیقی اور علاتی بھائیوں کے ساتھ دادا کے مسئلہ میں سختی کا بیان بغیر اجتہاد کے اور اس میں اختلاف کا بیان