(۱۲۴۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَبُوالطَّاہِرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ قَالَ : أَخَذَ أَبُو الزِّنَادِ ہَذِہِ الرِّسَالَۃَ مِنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمَنْ کُبَرَائِ آلِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ لِعَبْدِ اللَّہِ مُعَاوِیَۃَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَذَکَرَ الرِّسَالَۃَ بِطُولِہَا وَفِیہَا إِنِّی رَأَیْتُ مِنْ نَحْوِ قَسْمِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینِ یَعْنِی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ إِذَا کَانَ أَخًا وَاحِدًا ذَکَرًا مَعَ الْجَدِّ قُسِمَ مَا وَرِثَا بَیْنَہُمَا شَطْرَیْنِ فَإِنْ کَانَ مَعَ الْجَدِّ أُخْتٌ وَاحِدَۃٌ قُسِمَ لَہَا الثُّلُثُ فَإِنْ کَانَتَا أُخْتَیْنِ مَعَ الْجَدِّ قُسِمَ لَہُمَا الشَّطْرُ وَلِلْجَدِّ الشَّطْرُ فَإِنْ کَانَ مَعَ الْجَدِّ أَخْوَانِ فَإِنَّہُ یُقْسَمُ لِلْجَدِّ الثُّلُثُ فَإِنْ کَانُوا أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَإِنِّی لَمْ أَرَہُ حَسِبْتُ یَنْقُصُ الْجَدَّ مِنَ الثُّلُثِ شَیْئًا ثُمَّ مَا خَلَصَ لِلإِخْوَۃِ مِنْ مِیرَاثِ أَخِیہِمْ بَعْدَ الْجَدِّ فَإِنَّ بَنِی الأَبِ وَالأُمِّ ہُمْ أَوْلَی بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ بِمَا فَرَضَ اللَّہُ لَہُمْ دُونَ بَنِی الْعَلَّۃِ فَلِذَلِکَ حَسِبْتُ نَحْوًا مِنَ الَّذِی کَانَ عُمَرُ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ یَقْسِمُ بَیْنَ الْجَدِّ وَالإِخْوَۃِ مِنَ الأَبِ وَلَمْ یَکُنْ یُوَرِّثُ الإِخْوَۃَ مِنَ الأُمِّ الَّذِینَ لَیْسُوا مِنَ الأَبِ مَعَ الْجَدِّ شَیْئًا قَالَ ثُمَّ حَسِبْتُ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقْسِمُ بَیْنَ الْجَدِّ والإِخْوَۃِ نَحْوَ الَّذِی کَتَبْتُ بِہِ إِلَیْکَ فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ۔ [ضعیف]
(١٢٤٣٣) عبدالرحمن بن ابو الزناد کہتے ہیں : یہ رسالۃ ابو الزناد نے خارجہ بن زید اور آل زید بن ثابت کے بڑوں سے لیا ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کے بندے معاویہ امیرالمومنین کے لیے زید بن ثابت کی طرف سے ہے، اس کے لمبا ہونے اور جو اس میں تھا اس کا ذکر کیا اور میں نے امیرالمومنین عمر بن خطاب (رض) کی تقسیم دادا اور علاتی بھائیوں کے درمیان کو دیکھا، جب ایک بھائی ہودادا کے ساتھ تو دونوں کے درمیان وراثت دو حصوں میں تقسیم ہوگی۔ اگر دادا کے ساتھ ایک بہن ہو تو بہن کے لیے ثلث اور اگر دادا کے ساتھ دو ہوں تو دونوں کے لیے نصف اور نصف دادا کے لیے ۔ اگر دادا کے ساتھ دو بھائی ہوں تو دادا کے لیے ثلث اور اگر بھائی زیادہ ہوں تو میرے خیال میں وہ ثلث سے کچھ بھی کم نہ کرتے تھے، پھر جو ان کے بھائی کی وراثت سے ان کے لیے بچ جائے دادا کے بعد تو حقیقی اولاد کے لیے جو اللہ نے ان کے لیے فرض کیا ہے علاتی اولاد کے علاوہ۔ اسی طرح عمر (رض) جد اور علاتی بھائیوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے اور اخیافی بھائیوں کو وارث نہ بناتے تھے، پھر میں نے خیال کیا کہ حضرت عثمان (رض) بھی اسی طرح دادا اور بھائیوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے جس طرح میں نے آپ کی طرف لکھا ہے۔