(۱۲۴۳۷) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ نُضَیْلَۃَ قَالَ : کَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّہِ یُقَاسِمَانِ بِالْجَدِّ مَعَ الإِخْوَۃِ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَنْ یَکُونَ السُّدُسُ خَیْرًا لَہُ مِنْ مُقَاسَمَتِہِمْ ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ کَتَبَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ مَا أُرَانَا إِلاَّ قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ فَإِذَا جَائَ کَ کِتَابِی ہَذَا فَقَاسِمْ بِہِ مَعَ الإِخْوَۃِ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَنْ یَکُونَ الثُّلُثُ خَیْرًا لَہُ مِنْ مُقَاسَمَتِہِمْ فَأَخَذَ بِذَلِکَ عَبْدُ اللَّہِ۔ [صحیح]
(١٢٤٣٧) عبیدہ بن نفیلہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اور عبداللہ (رض) دونوں دادے کے لیے بھائیوں کے ساتھ سدس بہترسمجھتے تھے، پھر عمر (رض) نے عبداللہ کی طرف لکھا کہ ہم نے مقاسمۃ الجد میں اپنی رائے (کے ساتھ تقسیم میں) زیادتی کی ہے، یعنی نقصان پہنچایا ہے، جب تیرے پاس میرا خط آئے تو ان کے درمیان ثلث کی تقسیم رکھنا۔ یہ بہتر تقسیم ہے، پس عبداللہ (رض) نے اسی پر عمل لیا۔