hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12454

.

سنن البيهقي

12454
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۴۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الشَّعْبِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مُوسَی عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّہُ أُتِیَ بِہِ الْحَجَّاجُ مُوثَقًا فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی بَابِ الْقَصْرِ قَالَ لَقِیَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی مُسْلِمٍ فَقَالَ : إِنَّا لِلَّہِ یَا شَعْبِیُّ لِمَا بَیْنَ دَفَّتَیْکَ مِنَ الْعِلْمِ وَلَیْسَ بِیَوْمِ شَفَاعَۃٍ بُؤْ لِلأَمِیرِ بِالشِّرْکِ وَالنِّفَاقِ عَلَی نَفْسِکَ فَبِالْحَرِیِّ أَنْ تَنْجُوَ ثُمَّ لَقِیَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَقَالَ لِی مِثْلَ مَقَالَۃِ یَزِیدَ فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَی الْحَجَّاجِ قَالَ : وَأَنْتَ یَا شَعْبِیُّ مِمَّنْ خَرَجَ عَلَیْنَا وَکَثَّرَ فَقُلْتُ : أَصْلَحَ اللَّہُ الأَمِیرَ أَحْزَنَ بِنَا الْمَنْزِلُ وَأَجْدَبَ الْجَنَابُ وَضَاقَ الْمَسْلَکُ وَاکْتَحَلْنَا السَّہَرَ وَاسْتَحْلَسْنَا الْخَوْفَ وَوَقَعْنَا فِی خَزْیَۃٍ لَمْ نَکُنْ فِیہَا بَرَرَۃً أَتْقِیَائَ وَلاَ فَجَرَۃً أَقْوِیَائَ قَالَ : صَدَقْتَ وَاللَّہِ مَا بَرُّوا بِخُرُوجِہِمْ عَلَیْنَا وَلاَ قَوُوا عَلَیْنَا حَیْثُ فَجَرُوا أَطْلِقَا عَنْہُ ثُمَّ احْتَاجَ إِلَیَّ فِی فَرِیضَۃٍ فَأَتَیْتُہُ فَقَالَ : مَا تَقُولُ فِی أُمٍّ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ فَقُلْتُ : قَدِ اخْتَلَفَ فِیہَا خَمْسَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَزَیْدٌ وَعُثْمَانُ وَعَلِیٌ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ۔ قَالَ : مَا قَالَ فِیہَا ابْنُ عَبَّاسٍ إِنْ کَانَ لَمِقْنَبًا وَفِی رِوَایَۃِ الرَّقِّیِّ إِنْ کَانَ لَمُنَقِّبًا۔ قُلْتُ : جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا وَلَمْ یُعْطِ الأُخْتَ شَیْئًا وَأَعْطَی الأُمَّ الثُّلُثَ۔ قَالَ : فَمَا قَالَ فِیہَا زَیْدٌ قُلْتُ : جَعَلَہَا مِنْ تِسْعَۃٍ أَعْطَی الأُمَّ ثَلاَثَۃً وَأَعْطَی الْجَدَّ أَرْبَعَۃً وَأَعْطَی الأُخْتَ سَہْمَیْنِ قَالَ : فَمَا قَالَ فِیہَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ یَعْنِی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قُلْتُ : جَعَلَہَا أَثَلاَثًا۔ قَالَ : فَمَا قَالَ فِیہَا ابْنُ مَسْعُودٍ۔ قُلْتُ : جَعَلَہَا مِنْ سِتَّۃٍ أَعْطَی الأُخْتَ ثَلاَثَۃً وَالْجَدَّ سَہْمَیْنِ وَالأُمَّ سَہْمًا۔ قَالَ : فَمَا قَالَ فِیہَا أَبُو تُرَابٍ یَعْنِی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قُلْتُ : جَعَلَہَا مِنْ سِتَّۃِ أُسْہُمٍ فَأَعْطَی الأُخْتَ ثَلاَثَۃً وَأَعْطَی الأُمَّ سَہْمَیْنِ وَأَعْطَی الْجَدَّ سَہْمًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔ [ضعیف۔ وانظر الجمع ۷۱۶۷]
(١٢٤٤٩) حضرت شعبی (رح) سے روایت ہے کہ انھیں بیڑیوں میں جکڑ کر حجاج بن یوسف کے پاس لایا گیا، جب وہ محل کے دروازے کے پاس پہنچے تو کہتے ہیں کہ مجھے یزید بن ابو مسلم ملے تو انھوں نے کہا : ” انا للہ “ اے شعبی ! تو علم کا پہاڑ ہے اور آج تیرا کوئی سفارشی نہیں، تو اپنے خلاف شرک اور نفاق کا اقرار کرتے ہوئے امیر سے پناہ مانگ تو تو آزادی سے ہم کنار ہوگا، پھر مجھے محمد بن حجاج ملے اور یزید بن ابو مسلم جیسی بات کی، جب میں حجاج کے پاس پہنچا تو اس نے کہا : اے شعبی ! آپ ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے بڑی شد ومد کے ساتھ ہمارے خلاف خروج کیا ہے تو میں نے کہا : اللہ تعالیٰ امیر کی اصلاح فرمائے، ہمیں ناپسندیدہ جگہ پر لائے، جہاں مشکلات ہیں، راستہ تنگ ہوگیا ہے، نیند چھین لی گئی اور ہم مسلسل خوف ہراس میں ہیں اور ہم ایسی رسوائی میں واقع ہوچکے ہیں کہ جہاں نیکوکار متقی نہیں بن سکتے اور فاجر قوی نہیں ہوسکتے تو حجاج نے کہا : تو نے سچ کہا، اللہ کی قسم ! وہ ہم پر بغاوت کر کے نیکوکار نہیں بن گئے اور نہ وہ فاجر بن کر ہم پر قوی ہوئے۔ وہ دونوں بزرگ چلے گئے، پھر اسے (حجاج کو) علم میراث کے مسئلے میں میری ضرورت پڑی تو میں آیا، اس نے کہا : تو ماں، بہن اور دادا کے (حصوں کے) متعلق کیا کہتا ہے ؟ میں نے کہا : اس میں پانچ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اختلاف ہے اور وہ عبداللہ بن عباس، زید، عثمان، علی اور عبداللہ بن مسعود (رض) ہیں۔ اگر وہ (اصحاب الفرائض) جماعت ہیں تو ابن عباس (رض) کہتے ہیں : دادا باپ کے قائم مقام (باپ والے حصے) ماں کو تین، دادا کو چار اور بہن کو دو حصے دیے ہیں۔ اس نے کہا : امیرالمومنین عثمان (رض) کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا : انھوں نے (تینوں کو) تین حصے دیے ہیں اس نے کہا : ابن مسعود اس کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا : انھوں نے چھ حصے کیے بہن کو تین، دادا کو دو اور ماں کو ایک حصہ، اس نے کہا : اس مسئلہ کے متعلق ابوتراب سیدنا علی (رض) کا کیا موقف ہے ؟ میں نے کہا : انھوں نے جو حصے کیے، بہن کو تین، ماں کو دو ، دادا کو ایک حصہ دیا لمبی حدیث ہے۔