hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12462

.

سنن البيهقي

12462
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۴۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَزُفَرُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَ مَا ذَہَبَ بَصَرُہُ فَتَذَاکَرْنَا فَرَائِضَ الْمِیرَاثِ فَقَالَ : تَرَوْنَ الَّذِی أَحْصَی رَمْلَ عَالَجٍ عَدَدًا لَمْ یُحْصِ فِی مَالٍ نِصْفًا وَنِصْفًا وَثُلُثًا إِذَا ذَہَبَ نِصْفٌ وَنِصْفٌ فَأَیْنَ مَوْضِعُ الثُّلُثِ فَقَالَ لَہُ زُفَرُ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ مَنْ أَوَّلُ مَنْ أَعَالَ الْفَرَائِضَ؟ قَالَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ قَالَ : وَلِمَ؟ قَالَ : لَمَّا تَدَافَعَتْ عَلَیْہِ وَرَکِبَ بَعْضُہَا بَعْضًا قَالَ وَاللَّہِ مَا أَدْرِی کَیْفَ أَصْنَعُ بِکُمْ وَاللَّہِ مَا أَدْرِی أَیَّکُمْ قَدَّمَ اللَّہُ وَلاَ أَیَّکُمْ أَخَّرَ قَالَ وَمَا أَجِدُ فِی ہَذَا الْمَالِ شَیْئًا أَحْسَنَ مِنْ أَنْ أَقْسِمَہُ عَلَیْکُمْ بِالْحِصَصِ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَایْمُ اللَّہِ لَوْ قَدَّمَ مَنْ قَدَّمَ اللَّہُ وَأَخَّرَ مَنْ أَخَّرَ اللَّہُ مَا عَالَتْ فَرِیضَۃٌ فَقَالَ لَہُ زُفَرٌ : وَأَیَّہُمْ قَدَّمَ وَأَیَّہُمْ أَخَّرَ؟ فَقَالَ : کُلُّ فَرِیضَۃٍ لاَ تَزُولُ إِلاَّ إِلَی فَرِیضَۃٍ فَتِلْکَ الَّتِی قَدَّمَ اللَّہُ وَتِلْکَ فَرِیضَۃُ الزَّوْجِ لَہُ النِّصْفُ فَإِنْ زَالَ فَإِلَی الرُّبُعِ لاَ یَنْقُصُ مِنْہُ وَالْمَرْأَۃُ لَہَا الرُّبُعُ فَإِنْ زَالَتْ عَنْہُ صَارَتْ إِلَی الثُّمُنِ لاَ تَنْقُصُ مِنُْہ وَالأَخَوَاتُ لَہُنَّ الثُّلُثَانِ وَالْوَاحِدَۃُ لَہَا النِّصْفُ فَإِنْ دَخَلَ عَلَیْہِنَّ الْبَنَاتُ کَانَ لَہُنَّ مَا بَقِیَ فَہَؤُلاَئِ الَّذِینَ أَخَّرَ اللَّہُ فَلَوْ أَعْطَی مَنْ قَدَّمَ اللَّہُ فَرِیضَتَہُ کَامِلَۃً ثُمَّ قَسَّمَ مَا یَبْقَی بَیْنَ مَنْ أَخَّرَ اللَّہُ بِالْحِصَصِ مَا عَالَتْ فَرِیضَۃٌ۔ فَقَالَ لَہُ زُفَرٌ : فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تُشِیرَ بِہَذَا الرَّأْیِ عَلَی عُمَرَ فَقَالَ : ہِبْتُہُ وَاللَّہِ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَقَالَ لِی الزُّہْرِیُّ : وَایْمُ اللَّہِ لَوْلاَ أَنَّہُ تَقَدَّمَہُ إِمَامُ ہُدًی کَانَ أَمْرُہُ عَلَی الْوَرَعِ مَا اخْتَلَفَ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ اثْنَانِ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ۔ [ضعیف]
(١٢٤٥٧) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : میں اور زفرین اوس ابن عباس (رض) کے پاس گئے جب کہ ان کی نظر ختم ہوگئی تھی، ہم نے میراث کے حصوں کے بارے میں گفتگو کی۔ ابن عباس (رض) نے کہا : تم دیکھتے ہو وہ جو اس نے عالم کے ذرات کو شمار کیا ہے اس نے نہیں شمار کیا، مال میں نصف، نصف اور ثلث کو جب نصف اور نصف چلا گیا تو ثلث کہاں سے آیا ؟ زفر نے کہا : اے ابن عباس (رض) ! کون تھا جس نے پہلے عول کیا تھا ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : عمر بن خطاب (رض) ۔ زفر نے کہا : کس لیے ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : جب لوگ سوار ہو کر آنے لگے۔ (مسائل بڑھ گئے) تو عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے نہیں جانتا کہ تمہارے ساتھ کیا کروں ؟ اور اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ تم میں سے اللہ نے کس کو مقدم کیا اور کس کو مؤخر کیا ہے ؟ اور کہا : میں مال میں اس سے اچھا نہیں پاتا کہ اس کو حصوں میں تقسیم کر دوں، پھر ابن عباس (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر وہ مقدم کرتے جس کو اللہ نے مقدم کیا تھا اور مؤخر کرتے جس کو اللہ نے موخر کیا تھا تو حصوں میں عول نہ کرنا پڑتا۔ زفر نے کہا : ان میں سے کس کو مقدم کیا اور کس کو مؤخر کیا ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : ہر حصہ ایک دوسرے حصہ کی طرف ہے۔ پس جس کو اللہ نے مقدم کیا وہ یہ ہے خاوند کا حصہ نصف ہے پس اگر وہ (نصف) زائل ہوجائے تو ربع ہے اور اس سے کم نہ ہوگا اور عورت کے لیے ربع اگر (ربع) زائل ہوجائے تو ثمن ہے، اس سے کم نہ ہوگا اور بہنوں کے لیے دو تہائی ہے اور ایک ہو تو اس کے لیے نصف ہے اگر ان کے ساتھ بیٹیاں بھی ہوں تو باقی ان کے لیے ہے، پس یہ وہ ہیں جن کو اللہ نے مؤخر کیا، پس اگر وہ دے دیتے جس کو اللہ نے مقدم رکھا اس کا حصہ مکمل پھر باقی ماندہ ان میں تقسیم کردیتے ان میں جن کو اللہ نے مؤخر رکھا حصوں میں تو عول نہ کرنا پڑتا۔ زفر نے انھیں کہا : آپ کو کس نے روکا کہ عمر (رض) کو اس بات کا اشارہ کرتے ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! میں ان سے ڈر گیا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں، مجھے زہری نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر اس کو امام ہدی مقدم نہ کرتے تو اس کا معاملہ ورع پر تھا۔ اہل علم میں سے دو نے ابن عباس (رض) پر اختلاف نہیں کیا۔