(۱۲۴۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ وَمَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِی قَالَ : إِذَا کَانَ الْمَائُ أَرْبَعِینَ قُلَّۃً لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیْئٌ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ ، وَرَوَاہُ أَیُّوبُ السَّخْتِیَانِیُّ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ مِنْ قَوْلِہِ لَمْ یُجَاوِزْ بِہِ۔
وَرَوَی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : إِذَا کَانَ الْمَائُ قَدْرَ أَرْبَعِینَ قُلَّۃً لَمْ یَحْمِلْ خَبَثًا۔ وَخَالَفَہُ غَیْرُ وَاحِدٍ فَرَوَوْہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَقَالُوا : أَرْبَعِینَ غَرْبًا وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ : أَرْبَعِینَ دَلْوًا۔
قَالَہُ لِی أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیِّ الْحَافِظِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: أَرْبَعُونَ دَلْوًا مِنْ مَائٍ لاَ یُنَجِّسُہُ ، وَإِنِ اغْتَسَلَ فِیہِ الْجُنُبُ وَأَتْبَعَہُ آخَرُ۔ وَہَذَا أَوْلَی۔
وَابْنُ لَہِیعَۃَ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ۔
وَقَوْلُ مَنْ یُوَافِقُ قَوْلُہُ مِنَ الصَّحَابَۃِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی الْقُلَّتَیْنِ أَوْلَی أَنْ یُتَّبَعَ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
[صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۷]
(١٢٤٩) (الف) عبداللہ بن عمرو بن عاصی فرماتے ہیں : جب پانی چالیس مٹکے ہو تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(ب) عبدالرحمن بن ابوہریرہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب پانی چالیس مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا۔ دوسروں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چالیس بڑے ڈول۔ بعض کہتے ہیں دلو۔
(ج) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ پانی کے چالیس ڈول ہوں تو ان کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی، اگرچہ اس میں جنبی غسل کرے اور دوسری روایت اس کی متابعت ہے اور یہ اولیٰ ہے۔ ابن لھیعہ قابل حجت نہیں۔
(د) قلتین والی حدیث میں جس صحابی کا قول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول کے موافق ہے اس کی اتباع اولیٰ ہے۔