(۱۲۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الرَّازِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُمَیْدٍ الْمَصِّیصِیُّ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدٌ أَنَّ یَحْیَی بْنَ عُقَیْلٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ یَحْیَی بْنَ یَعْمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلْ نَجِسًا وَلاَ بَأْسًا))۔ قَالَ فَقُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ عُقَیْلٍ : قِلاَلُ ہَجَرَ؟ قَالَ قِلاَلُ ہَجَرَ قَالَ : فَأَظُنُّ أَنَّ کُلَّ قُلَّۃٍ تَأْخُذُ فَرَقَیْنِ۔ زَادَ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ فِی رِوَایَتِہِ : وَالْفَرَقُ سِتَّۃَ عَشَرَ رَطْلاً۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۴]
(١٢٥١) یحییٰ بن یعمر کو خبر دی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا اور اس میں کوئی حرج نہیں ۔ راوی کہتا ہے : میں نے یحییٰ بن عقیل سے پوچھا : ہجر شہر کے مٹکے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ہجر شہر کے مٹکے۔ راوی کہتا ہے : میرا گمان ہے کہ ہر مٹکے میں دو فرق پانی آتا ہے۔ احمد بن علی نے اپنی روایت میں زیادتی نقل کی ہے کہ فرق سولہ رطل کا ہوتا ہے۔