(۱۲۵۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ (وَالَّذِینَ عَاقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ فَآتُوہُمْ نَصِیبَہُمْ) کَانَ الرَّجُلُ یُحَالِفُ الرَّجُلَ لَیْسَ بَیْنَہُمَا نَسَبٌ فَیَرِثُ أَحَدُہُمَا الآخَرَ فَنَسَخَ ذَلِکَ الأَنْفَالُ فَقَالَ {وَأُوْلُو الأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ} [ضعیف]
(١٢٥٢٧) حضرت ابن عباس (رض) نے آیت والذین عقدت ایمانکم کے بارے میں کہا کہ ایک آدمی دوسرے سے عہد و پیمان کرتا تھا کہ ان کے درمیان نسب نہیں ہے۔ پھر ایک دوسرے کا وارث بن جاتا تھا تو سورة انفال کی آیت { وَأُوْلُو الأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ } نے اسے منسوخ کردیا۔