(۱۲۵۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ نَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ ہَذِہِ الآیَۃَ نُسِخَتْ (وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ) وَلاَ وَاللَّہِ مَا نُسِخَتْ وَلَکِنَّہَا مِمَّا یَتَہَاوَنُ النَّاسُ بِہَا وَہُمَا وَالِیَانِ وَالٍ یَرِثُ فَذَلِکَ الَّذِی یَرْزُقُ وَوَالٍ لَیْسَ بِوَارِثٍ فَذَاکَ الَّذِی یَقُولُ قَوْلاً مَعْرُوفًا : إِنَّہُ مَالُ یَتَامَی وَمَا لِی فِیہِ شَیْئٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَارِمٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ بِلاَ شَکٍّ وَالشَّکُّ مِنِّی فِی إِسْنَادِی۔ وَیُذْکَرُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : أَنَّہَا لَمْ تُنْسَخْ۔ وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ لَمْ یُجَاوِزْ بِہِ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شُعْبَۃُ وَہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ۔ وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ أَنَّہُ کَانَ یُعْطِی بِہَذِہِ الآیَۃِ۔ [بخاری ۲۷۵۹]
(١٢٥٥٧) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ لوگ کہتے ہیں : یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے، لیکن اللہ کی قسم ! وہ منسوخ نہیں ہوئی۔ البتہ لوگ اس پر عمل کرنے میں سست ہوگئے۔ ترکہ لینے والے دو طرح کے ہوتے ہیں : ایک وہ جو خود وارث ہوں ان کو تو (دوسروں کو) دینے کا حکم ہے دوسرے وہ جو خود وارث نہ ہوں ان کو نرمی سے جواب دینے کا حکم ہے اور وہ کہہ دے : یہ یتیموں کا مال ہے میرا اس میں کچھ نہیں ہے۔