(۱۲۵۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِیکٍ الْمَکِّیِّ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ لَہَا رَجُلٌ إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَوْصِیَ۔ قَالَتْ : کَمْ مَالُکَ؟ قَالَ : ثَلاَثَۃُ آلاَفٍ قَالَتْ : کَمْ عِیَالُکَ؟ قَالَ : أَرْبَعَۃٌ فَقَالَتْ : قَالَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ (إِنْ تَرَکَ خَیْرًا) وَإِنْ ہَذَا لَشَیْئٌ یَسِیرٌ فَاتْرُکْہُ لِعِیَالِکَ فَہُوَ أَفْضَلُ۔ [صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۲/ ۵۶۷]
(١٢٥٧٩) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان کو کہا : میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہوں، عائشہ (رض) نے پوچھا : کتنے مال کی ؟ اس نے کہا : تین ہزار کی۔ عائشہ (رض) نے پوچھا : تیرا خاندان کتنا ہے ؟ اس نے کہا : چار افراد ہیں، حضرت عائشہ (رض) نے کہا : اللہ فرماتے ہیں : ان ترک خیرا یہ تو تھوڑا سا مال ہے۔ اسے اپنے اہل کے لیے چھوڑ دے یہی افضل ہے۔