(۱۲۵۸۲) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا } فَہَذَا الرَّجُلُ یَحْضُرُ الرَّجُلَ عِنْدَ مَوْتِہِ فَیُسْمِّعُہُ بِوَصِیَّۃٍ تَضُرَّ بِوَرَثَتِہِ فَأَمَرَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ الَّذِی یَسْمَعُہُ أَنْ یَتَّقِی اللَّہَ وَیُوَفِّقَہُ وَیُسَدِّدَہُ لِلصَّوَابِ وَلْیَنْظُرْ لِوَرَثَتِہِ کَمَا یُحِبُّ أَنْ یُصْنَعَ بِوَرَثَتِہِ إِذَا خَشِیَ عَلَیْہِمُ الضَّیْعَۃَ۔ [ضعیف]
(١٢٥٨٢) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ } یعنی آدمی دوسرے کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوتا اور اسے وصیت کے بارے میں کہتا، مقصود اس کے ورثاء کو نقصان پہنچاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو حکم دیا جو مشورہ دینے والا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور صحیح چیز میں رکاوٹ ڈالنے سے بچے اور اس کے ورثاء کا خیال کرے جیسے پسند کرتا ہے کہ اس کے اپنے ورثاء سے کیا جائے۔ جب ان پر فقر کا ڈر ہو۔