(۱۲۵۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَہُ مَالٌ یُرِیدُ أَنْ یُوصِیَ فِیہِ یَبِیتُ لَیْلَۃً أَوْ لَیْلَتَیْنِ لَیْسَتْ وَصِیَّتُہُ مَکْتُوبَۃً عِنْدَہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح]
(١٢٥٨٩) حضرت ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ اس کے پاس مال ہو اور اس میں سے وصیت کرنا چاہتا ہو کہ بغیر وصیت لکھے ایک رات یا دو راتیں گزارے۔