(۱۲۶۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : کَانَ أَبُو طَلْحَۃَ أَکْثَرَ أَنْصَارِیٍّ بِالْمَدِینَۃِ مَالاً وَکَانَ أَحَبَّ مَالِہِ إِلَیْہِ بَیْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدْخُلُہَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیہَا طَیِّبٍ قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } قَامَ أَبُو طَلْحَۃَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَقُولُ فِی کِتَابِہِ { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِی إِلَیَّ بَیْرُحَائَ وَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ لِلَّہِ أَرْجُو بِرَّہَا وَذُخْرَہَا عِنْدَ اللَّہِ فَضَعْہَا یَا رَسُولَ اللَّہِ حَیْثُ أَرَاکَ اللَّہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بَخٍ ذَلِکَ مَالٌ رَائِحٌ أَوْ رَابِحٌ ۔ شَکَّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّی أَرَی أَنْ تَجْعَلَہَا فِی الأَقْرَبِینَ۔ فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : أَفْعَلُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَسَمَہَا أَبُو طَلْحَۃَ فِی أَقَارِبِہِ وَبَنِی عَمِّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۷۶۹]
(١٢٦٠٦) اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک (رض) سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ابو طلحہ مدینہ کے انصاریوں میں زیادہ مالدار تھے، ان کا پسندیدہ مال بیرحاء تھا اور وہ مسجد کے سامنے تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں داخل ہوتے تھے اور اس کا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی : { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } ابو طلحہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } اور بیشک میرے پسندیدہ اموال میں سے بیرحاء ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ کیا ہے اور میں اس کی نیکی اور اس کا ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں۔ اللہ سے۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اسے رکھ لیں جہاں آپ کو اللہ حکم دے وقف کردینا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : شاباش بڑا نفع بخش مال ہے اور جو تو نے کہا میں نے اسے سن لیا اور میرے خیال میں اسے اپنے رشتہ داروں میں خرچ کر دو ۔ ابو طلحہ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں ایسا ہی کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول ! پس ابو طلحہ نے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں میں تقسیم کردیا۔