(۱۲۶۱۵) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ عِکْرِمَۃَ بْنَ خَالِدٍ یَقُولُ : أَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَکَمِ فِی شَکْوَاہُ أَنْ یُخْرِجَ امْرَأَتَہُ مِنْ مِیرَاثِہَا فَأَبَتْ فَنَکَحَ عَلَیْہَا ثَلاَثَ نِسْوَۃٍ وَأَصْدَقَہُنَّ أَلْفَ دِینَارٍ کُلَّ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ فَأَجَازَ ذَلِکَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ وَشَرَکَ بَیْنَہُنَّ فِی الثُّمُنِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : أُرَی ذَلِکَ صَدَاقُ مِثْلِہِنَّ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَبَلَغَنِی أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ : زَوِّجُونِی لاَ أَلْقَی اللَّہَ وَأَنَا أَعْزَبُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۴/ ۱۰۴]
(١٢٦١٥) عمرو بن دینار نے عکرمہ بن خالد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ عبدالرحمن بن ام حکم نے اپنی بیماری میں اپنی بیوی کو وراثت سے نکالنے کا ارادہ کیا، اس نے انکار کردیا۔ پس عبدالرحمن نے اس کے ساتھ تین اور عورتوں سے نکاح کرلیا اور ان کا حق مہر ہر ایک کے لیے ایک ایک ہزار دینار مقرر کردیا اور عبدالملک بن مروان نے اس کی اجازت دے دی اور اس (پہلی بیوی) کو ان کے ساتھ ثمن میں شریک کیا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اس کا مطلب ہے ان جیسا حق مہر اور امام شافعی (رح) فرماتی ہیں : مجھے معاذ بن جبل سے یہ بات پہنچی ہے کہ انھوں نے اپنی وفات والی مرض میں کہا تھا، میری شادی کر دو ، میں اللہ سے اس حال میں نہیں ملنا چاہتا کہ میں کنوارا ہوں۔