hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12662

.

سنن البيهقي

12662
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۶۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ َخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ قِیلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ ہَا ہُنَا غُلاَمًا یَفَاعًا لَمْ یَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُہُ بِالشَّامِ وَہُوَ ذُو مَالٍ وَلَیْسَ لَہُ ہَا ہُنَا إِلاَّ ابْنَۃُ عَمٍّ لَہُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَلْیُوصِ لَہَا فَأَوْصَی لَہَا بِمَالٍ یُقَالُ لَہُ بِئْرُ جُشَمَ قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَیْمٍ فَبِعْتُ ذَلِکَ الْمَالَ بِثَلاَثِینَ أَلْفًا وَابْنَۃُ عَمِّہِ الَّتِی أَوْصَی لَہَا ہِیَ أُمُّ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ شُرَیْحٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّہُمَا أَجَازَا وَصِیَّۃَ الصَّغِیرِ وَقَالاَ : مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ أَجَزْنَاہُ والشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ عَلَقَّ جَوَازَ وَصِیَّتِہِ وَتَدْبِیرِہِ بِثُبُوتِ الْخَبَرِ فِیہَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَالْخَبَرُ مُنْقَطِعٌ فَعَمْرُو بْنُ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیُّ لَمْ یُدْرِکْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلاَّ أَنَّہُ ذَکَرَ فِی الْخَبَرِ انْتِسَابَہُ إِلَی صَاحِبَۃِ الْقِصَّۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۴۵۴]
(١٢٦٥٧) عمرو بن سلیم رزقی فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) سے کہا گیا : یہاں ایک نابالغ بچہ ہے غسان کا اور اس کے ورثاء شام میں ہیں اور وہ مالدار ہے اور یہاں سوائے اس کے چچا کی بیٹی کے اور کوئی نہیں ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اسے چاہیے کہ چچا کی بیٹی کے لیے وصیت کر دے۔ پس اس نے اس کے لیے مال کی وصیت کردی، جسے بئر جشم کہا جاتا تھا، عمرو بن سلیم کہتے ہیں : میں نے وہ مال تیس ہزار کا بیچا اور اس کے چچا کی بیٹی جس کے لیے وصیت کی تھی اس کا نام ام عمرو بن سلیم تھا۔ شریح اور عبداللہ بن عتبہ سے بیان کیا گیا ہے کہ دونوں نے بچے کی وصیت کی اجازت دی ہے اور دونوں نے کہا : جو حق کو پہنچ گیا، ہم نے اسے اجازت دی ہے اور امام شافعی (رح) نے حضرت عمر (رض) والی حدیث کے ثابت ہونے تک بچے والی وصیت کو معلق رکھا اور حضرت عمر (رض) والی خبر منقطع ہے۔