(۱۲۶۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ َخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ} وَ {إِنَّ الَّذِینَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا} انْطَلَقَ مَنْ کَانَ عِنْدَہُ یَتِیمٌ فَعَزَلَ طَعَامَہُ مِنْ طَعَامِہِ وَشَرَابَہُ مِنْ شَرَابِہِ فَجَعَلَ یَفْضُلُ الشَّیْئُ مِنْ طَعَامِہِ وَشَرَابِہِ فَیُحْبَسُ حَتَّی یَأْکُلَہُ أَوْ یَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہُ -ﷺ- فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْیَتَامَی قُلْ إِصْلاَحٌ لَہُمْ خَیْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ} فَخَلَطُوا طَعَامَہُمْ بِطَعَامِہِمْ وَشَرَابَہُمْ بِشَرَابِہِمْ۔ [ضعیف۔ حاکم ۳۱۸۴]
(١٢٦٧١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب آیت { وَلاَ تَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ } اور {إِنَّ الَّذِینَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا } نازل ہوئی تو ہر ایک جس کے پاس یتیم تھا، اس نے اس کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے علیحدہ کردیا، وہ اس کی زائد کھانے پینے کی چیز رکھ لیتا یہاں تک کہ وہ یتیم خود اسے کھا لیتا یا وہ خراب ہوجاتی۔ صحابہ (رض) پر یہ بڑا مشکل تھا، انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا : { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْیَتَامَی قُلْ إِصْلاَحٌ لَہُمْ خَیْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ } پس انھوں نے ان کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے ملا لیا۔