(۱۲۶۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ فَذَکَرَ قِصَّۃَ مَقْتَلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِیہَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ قَالَ : یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ انْظُرْ مَا عَلَیَّ مِنَ الدَّیْنِ فَحَسَبُوہُ فَوَجَدُوہُ ثَمَانِینَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنْ وَفَی لَہُ مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّہِ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَإِلاَّ فَسَلْ فِی بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ فَإِنْ لَمْ تَفِ أَمْوَالُہُمْ فَسَلْ فِی قُرَیْشٍ وَلاَ تَعْدُہُمْ إِلَی غَیْرِہِمْ فَأَدِّ عَنِّی ہَذَا الْمَالَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی۔ [صحیح۔ بخاری ۳۷۰۰]
(١٢٦٨١) حصرت عمرو بن میمون نے حضرت عمر (رض) کے قتل کا قصہ بیان کیا اور فرمایا : حضرت عمر (رض) نے کہا : اے عبداللہ ! میرے قرض کو دیکھو انھوں نے حساب لگایا تو وہ اسی ہزار تھا یا اس کے قریب قریب۔ پھر حضرت عمر (رض) نے کہا : اگر آل عمر کے مال سے پورا ہوجائے تو ادا کردینا ورنہ بنی عدی بن کعب سے سوال کرلینا۔ اگر ان کے مال سے بھی پورا نہ ہو تو قریش سے سوال کرلینا اور ان کے علاوہ کسی اور کی طرف نہ جانا اور میری طرف سے قرض ادا کردینا۔