(۱۲۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی أَخْبَرَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلاَئِ۔وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی وَإِسْمَاعِیلُ عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَنُصِیبُ مِنْ آنِیَۃِ الْمُشْرِکِینَ وَأَسْقِیَتِہِمْ ، فَنَسْتَمْتِعُ بِہَا فَلاَ یَعِیبُ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ۔وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبْدَانَ: فَلاَ یُعَابُ عَلَیْنَا۔ [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۸۳۸]
(١٢٨) (الف) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے، ہم کو مشرکوں کے برتن اور ان کے مشکیزے مل جاتے تو ہم اس سے فائدہ اٹھاتے، یہ ان کے لیے کوئی عیب والی بات نہیں ہوتی تھی۔
(ب) اور ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ ہم پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔