hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12706

.

سنن البيهقي

12706
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۷۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ َخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَسْبَاطٍ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ حَنَشٍ : أَنَّ رَجُلَیْنِ اسْتَوْدَعَا امْرَأَۃً مِنْ قُرَیْشٍ مِائَۃَ دِینَارٍ عَلَی أَنْ لاَ تَدْفَعَہَا إِلَی وَاحِدٍ مِنْہُمَا دُونَ صَاحِبِہِ حَتَّی یَجْتَمِعَا فَأَتَاہَا أَحَدُہُمَا فَقَالَ : إِنَّ صَاحِبِی تُوُفِّیَ فَادْفَعِی إِلَیَّ الْمَالَ فَأَبَتْ فَاخْتَلَفَ إِلَیْہَا ثَلاَثَ سِنِینَ وَاسْتَشْفَعَ عَلَیْہَا حَتَّی أَعْطَتْہُ ثُمَّ إِنَّ الآخَرَ جَائَ فَقَالَ : أَعْطِنِی الَّذِی لِی فَذَہَبَ بِہَا إِلَی عُمَرَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہَلْ بَیِّنَۃٌ قَالَ : ہِیَ بَیِّنَتِی فَقَالَ : مَا أَظُنُّکِ إِلاَّ ضَامِنَۃً قَالَتْ : أَسْأَلُکَ یَا أَبَا فُلاَنٍ أَنْ تَرْفَعَنَا إِلَی ابْنِ أَبِی طَالِبٍ فَأَتَوْہُ وَہُوَ یُطَیِّنُ حَوْضًا لَہُ فِی بُسْتَانٍ وَہُوَ مُتَّزِرٌ بِکِسَائٍ فَقَصُّوا عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَقَالَ : ائْتِنِی بِصَاحِبِکَ وَإِلَیَّ مَتَاعُکَ۔ [ضعیف جداً]
(١٢٧٠١) سماک حنش سے نقل فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے قریش کی ایک عورت کو ایک سو دینار امانت دیے ہوئے تھے اور شرط لگائی کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کو نہ دے گی بلکہ جب دونوں جمع ہوں اس وقت دے گی، ان میں سے ایک آیا اس نے کہا : میرا دوست فوت ہوگیا ہے پس وہ مال مجھے دے دو ۔ اس نے انکار کردیا، تین سال اس اختلاف میں گزر گئے۔ اس شخص نے سفارش سے وہ مال لے لیا۔ پھر دوسرا آدمی آگیا، اس نے کہا : میرا مال مجھے دو ، پھر وہ عمر بن خطاب (رض) کے پاس گیا، حضرت عمر (رض) نے اسے کہا : تیرے پاس دلیل ہے ؟ اس نے کہا : یہ عورت ہی میری دلیل ہے۔ عمر نے کہا : میں تجھے ضامن خیال کرتا ہوں اس عورت نے کہا : اے ابوفلاں ! میں سوال کرتی ہوں کہ علی بن ابی طالب کے پاس اپنا معاملہ لے جائیں، وہ علی (رض) کے پاس آئے اور حضرت علی (رض) باغ میں حوض کے پاس مٹی گوندھ رہے تھے اور کپڑے کو ازار بند کیا ہوا تھا، انھوں نے آپ پر قصہ بیان کیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اپنے ساتھی کو میرے پاس لاؤ اور اس کا سامان میرے ذمہ ہے۔