(۱۲۷۷۲) وَبِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَتْ صَفِیَّۃُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِی حِصْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ حِینَ خَنْدَقَ النَّبِیُّ -ﷺ- قَالَتْ صَفِیَّۃُ فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مِنْ یَہُودَ فَجَعَلَ یُطِیفُ بِالْحِصْنِ فَقُلْتُ لِحَسَّانَ : إِنَّ ہَذَا الْیَہُودِیَّ یُطِیفُ بِالْحِصْنِ کَمَا تَرَی وَلاَ آمَنُہُ أَنْ یَدُلَّ عَلَی عَوْرَتِنَا فَانْزِلْ إِلَیْہِ فَاقْتُلْہُ فَقَالَ : یَغْفِرُ اللَّہُ لَکَ یَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَاللَّہِ لَقَدْ عَرَفْتِ مَا أَنَا بِصَاحِبِ ہَذَا قَالَتْ صَفِیَّۃُ : فَلَمَّا قَالَ ذَلِکَ احْتَجَزْتُ وَأَخَذْتُ عَمُودًا ثُمَّ نَزَلْتُ مِنَ الْحِصْنِ إِلَیْہِ فَضَرَبْتُہُ بِالْعَمُودِ حَتَّی قَتَلْتُہُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَی الْحِصْنِ فَقُلْتُ : یَا حَسَّانُ انْزِلْ فَاسْتَلِبْہُ فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَسْتَلِبَہُ إِلاَّ أَنَّہُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا لِی بِسَلَبِہِ مِنْ حَاجَۃٍ یَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔ [حسن۔ حاکم ۶۹۶۹]
(١٢٧٧٢) یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ صفیہ بنت عبدالمطلب حسان بن ثابت (رض) کے قلعہ میں تھیں، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کھودی تو صفیہ نے کہا : ہمارے پاس سے یہودیوں کا ایک آدمی گزرا، وہ قلعہ کے اردگرد گھوم رہا تھا، میں نے حسان سے کہا : یہ یہودی قلعہ کے اردگرد گھوم رہا ہے، جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھ رہے ہیں اور میں اس سے امن میں ہوں کہ وہ ہماری عورتوں پر دلالت کرے گا، پس اترو اور اسے قتل کر دو ، حسان نے کہا : اے عبدالمطلب کی بیٹی ! اللہ تجھے معاف کرے۔ اللہ کی قسم ! تو نے پہچان لیا ہے، لیکن میں یہ نہیں کرسکتا۔ صفیہ کہتی ہیں، جب حسان نے یہ کہا میں نے تیاری کی اور لکڑی پکڑی پھر میں قلعہ سے اس پر پھینک دی میں اسے مارتی رہی حتیٰ کہ میں نے اسے قتل کردیا۔ پھر میں واپس پلٹی میں نے حسان سے کہا : جاؤ اور اس کا سامان لے آؤ، مجھے لانے سے صرف یہ چیز روکتی ہے کہ وہ آدمی ہے۔ حسان نے کہا : مجھے اس مال کی کوئی ضرورت نہیں، اے بنت عبدالمطلب۔