(۱۲۷۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : أُصِیبَ بِہَا یَعْنِی فِی غَزْوَۃِ مُؤْتَۃَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَغَنِمَ الْمُسْلِمُونَ بَعْضَ أَمْتِعَۃِ الْمُشْرِکِینَ فَکَانَ مِمَّا غَنِمُوا خَاتَمًا جَائَ بِہِ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : قَتَلْتُ صَاحِبَہُ یَوْمَئِذٍ فَنَفَّلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِیَّاہُ۔قَالَ الْوَاقِدِیُّ وَحَدَّثَنِی بُکَیْرُ بْنُ مِسْمَارٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : حَضَرْتُ مُؤْتَۃَ فَبَارَزَنِی رَجُلٌ مِنْہُمْ یَوْمَئِذٍ فَأَصَبْتُہُ وَعَلَیْہِ بَیْضَۃٌ لَہُ فِیہَا یَاقُوتَۃٌ فَلَمْ یَکُنْ ہِمَّتِی إِلاَّ الْیَاقُوتَۃَ فَأَخَذْتُہَا فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَی الْمَدِینَۃِ أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِہَا فَنَفَّلَنِیہَا فَبِعْتُہَا زَمَنَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِائَۃِ دِینَارٍ فَاشْتَرَیْتُ بِہَا حَدِیقَۃً۔ [ضعیف]
(١٢٧٧٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : مسلمانوں کو غزوہ موتہ میں تکلیف دی گئی اور مسلمانوں نے بعض مشرکوں کا سامان غنیمت بنایا تھا، اس میں سے ایک انگوٹھی تھی، جسے ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آیا، اس نے کہا : میں نے اس کے صاحب کو قتل کیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ اسے دی۔
خزیمہ بن ثابت فرماتے ہیں : میں غزوہ موتہ میں حاضر ہوا۔ اس دن ان میں سے ایک آدمی نے مجھے دعوت مقابلہ دی، میں اسے پہنچا اور اس پر خود تھا، اس میں موتی لگے ہوئے تھے پس موتیوں کی وجہ سے میں نے اسے پکڑ لیا جب میں مدینہ واپس آیا میں وہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ مجھے عنایت فرما دیا۔ میں نے اسے حضرت عثمان (رض) کے دور میں سو دینار میں بیچ دیا ۔ پس میں نے اس سے باغ خریدا۔