(۱۲۷۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِی صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ فِی غَزْوَۃِ مُؤْتَۃَ وَرَافَقَنِی مَدَدِیٌّ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ لَیْسَ مَعَہُ غَیْرُ سَیْفِہِ فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ جَزُورًا فَسَأَلَہُ الْمَدَدِیُّ طَائِفَۃً مِنْ جِلْدِہِ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ فَاتَّخَذَہ کَہَیْئَۃِ الدَّرَقِ وَمَضَیْنَا فَلَقِینَا جُمُوعَ الرُّومِ وَفِیہِمْ رَجُلٌ عَلَی فَرَسٍ لَہُ أَشْقَرَ عَلَیْہِ سَرْجٌ مُذَہَّبٌ وَسِلاَحٌ مُذَہَّبٌ فَجَعَلَ الرُّوْمِیُّ یَفْرِی بِالْمُسْلِمِینَ وَقَعَدَ لَہُ الْمَدَدِیُّ خَلْفَ صَخْرَۃٍ فَمَرَّ بِہِ الرُّومِیُّ فَعَرْقَبَ فَرَسَہُ فَخَرَّ وَعَلاَہُ فَقَتَلَہُ وَحَازَ فَرَسَہُ وَسِلاَحَہُ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُسْلِمِینَ بَعَثَ إِلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَأَخَذَ مِنَ السَّلَبِ قَالَ عَوْفٌ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : یَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَضَی بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ قَالَ : بَلَی وَلَکِنِّی اسْتَکْثَرْتُہُ۔ قُلْتُ : لَتَرُدَّنَّہُ إِلَیْہِ أَوْ لأُعَرِّفَنَّکَہَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَبَی أَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِ قَالَ عَوْفٌ: فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَصَصْتُ عَلَیْہِ قِصَّۃَ الْمَدَدِیِّ وَمَا فَعَلَ خَالِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: یَا خَالِدُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ؟ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اسْتَکْثَرْتُہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا خَالِدُ رُدَّ عَلَیْہِ مَا أَخَذْتَ مِنْہُ ۔ قَالَ عَوْفٌ فَقُلْتُ : دُونَکَ یَا خَالِدُ أَلَمْ أَفِ لَکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَمَا ذَاکَ ۔ فَأَخْبَرْتُہُ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا خَالِدُ لاَ تَرُدَّ عَلَیْہِ ہَلْ أَنْتُمْ تَارِکُو لِی أُمَرَائِی لَکُمْ صَفْوَۃُ أَمْرِہِمْ وَعَلَیْہِمْ کَدَرُہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۵۳]
(١٢٧٨٣) عوف بن مالک (رض) کہتے ہیں : میں زید بن حارثہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا اور یمن والوں کی طرف سے بھی میری مدد آچکی تھی۔ اس میں تلوار کے علاوہ کوئی نہ تھا، مسلمانوں کے ایک آدمی نے اونٹ ذبح کیا، مدد کرنے والی جماعت نے اس کے چمڑے کا سوال کیا، اس نے دے دیا، اس نے اسے خول کے طور پر پکڑا۔ پس ہم چلے اور روم کے لشکروں کو ملے۔ ان میں ایک گہرے زرد گھوڑے پر سونے کا چمکدارٹکڑا اور سونے کے اسلحہ سے لیس تھا، پس وہ رومی مسلمانوں پر حملے کرنا شروع ہوا اور مددی رومی کے پیچھے ایک چٹان پر بیٹھ گیا۔ پس جب رومی وہاں سے گزرا، اس نے اس کے گھوڑے کو گرایا اور اس پر غلبہ پا کر اسے (رومی کو) قتل کردیا اور اس کا گھوڑا اور اسلحہ جمع کرلیا۔ جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید (رض) نے اس سے سلب منگوایا۔ عوف کہتے ہیں : میں آیا، میں نے خالد سے کہا : کیا تو جانتا نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ہے۔ خالد (رض) نے کہا : ہاں، لیکن میں اسے زیادہ خیال کرتا ہوں۔ میں نے کہا : تو اسے لوٹا دے یا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس کا ذکر کروں گا، خالد نے لوٹانے سے انکار کردیا۔ عوف کہتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جمع ہوئے۔ میں نے آپ پر مدری کا قصہ بیان کیا اور جو خالد نے کیا، وہ بھی بیان کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خالد ! تو نے ایسا کیوں کیا ؟ خالد نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے اسے زیادہ خیال کیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خالد ! اسے لوٹا دو جو تم نے اس سے لیا ہے، عوف کہتے ہیں : میں نے کہا : اے خالد ! میں نے ایسے ہی کہا تھا ناں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا معاملہ ہے ؟ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ میں آگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے خالد ! نہ اس پر لوٹانا، کیا تم میرے امراء کے لیے ناپسندیدہ باتیں اور اپنے لیے صاف معاملات چھوڑ رہے ہو۔