(۱۲۸۰۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْحِنَّائِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو الْجُوَیْرِیَۃِ قَالَ : وَجَدْتُ جَرَّۃً خَضْرَائَ فِی إِمَارَۃِ مُعَاوِیَۃَ فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ وَعَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ یُقَالُ لَہُ مَعْنُ بْنُ یَزِیدَ فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَسَمَہَا بَیْنَ النَّاسِ وَأَعْطَانِی مِثْلَ مَا أَعْطَی رَجُلاً مِنْہُمْ ثُمَّ قَالَ : لَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ وَرَأَیْتُہُ یَفْعَلُہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ نَفَلَ إِلاَّ بَعْدَ الْخُمُسِ ۔ لأَعْطَیْتُکَ وَأَخَذَ یَعْرِضُ عَلَیَّ مِنْ نَصِیبِہِ فَأَبَیْتُ وَقُلْتُ : مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِہِ مِنْکَ۔ [صحیح۔ احمد ۳/ ۴۷۰]
(١٢٨٠٩) ابوجویریہ کہتے ہیں : امیر معاویہ کی امارت میں دشمن کی زمین میں ہم پر اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے بنی سلیم کا آدمی تھا، اسے معن بن یزید کہا جاتا تھا۔ میں اس کے پاس آیا، اس نے لوگوں میں اسے تقسیم کردیا اور مجھے بھی ان کی مثل دیا : پھر کہا : اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ نہسنا ہوتا یا کرتے نہ دیکھا ہو تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غنیمت خمس کے بعد ہے تو میں تجھے دے دیتا اور اپنا حصہ مجھے دینے لگے۔ میں نے انکار کردیا اور میں نے کہا : میں تجھ سے زیادہ حق دار نہیں ہوں۔