(۱۲۸۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْن إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ قَالَ : سَأَلْتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الأَنْفَالِ فَقَالَ : فِینَا أَصْحَابَ بَدْرٍ نَزَلَتْ وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ الْتَقَی النَّاسُ بِبَدْرٍ نَفَّلَ کُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی نُزُولِ الآیَۃِ وَالْقِسْمَۃِ بَیْنَہُمْ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ فِی أَوَّلِ ہَذَا الْکِتَابِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ إِذَا بَعَثَ الإِمَامُ سَرِیَّۃً أَوْ جَیْشًا فَقَالَ لَہُمْ قَبْلَ اللِّقَائِ مَنْ غَنَمَ شَیْئًا فَہُوَ لَہُ بَعْدَ الْخُمُسِ فَذَلِکَ لَہُمْ عَلَی مَا شَرَطَ لأَنَّہُمْ عَلَی ذَلِکَ غَزَوْا وَبِہِ رَضُوا وَذَہَبُوا فِی ہَذَا إِلَی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ یَوْمَ بَدْرٍ : مَنْ أَخَذَ شَیْئًا فَہُوَ لَہُ ۔ وَذَلِکَ قَبْلَ نُزُولِ الْخُمُسِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَلَمْ أَعْلَمْ شَیْئًا یَثْبُتُ عِنْدَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِہَذَا۔
قَالَ الشَّیْخُ الَّذِی رُوِیَ فِی ہَذَا مَا ذَکَرْنَا وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا یُخَالِفُہُ فِی لَفْظِہِ۔ [ضعیف]
(١٢٨١٦) ابوامامہ باہلی فرماتے ہیں : میں عبادہ بن صامت (رض) سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : ہم میں اصحاب بدر ہیں، یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھاجب لوگ کافروں سے ملے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر کو وہ دے دیا تھا جو اس کو جنگ سے ملا تھا پھر عبادہ نے نزول آیت اور ان کے درمیان تقسیم وغیرہ کا ذکر کیا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بعض اہل علم نے کہا : جب امام لشکر روانہ کرے تو دشمن سے آمنا سامنا ہونے سے پہلے کہے : جو بھی غنیمت کا مال حاصل ہوگا وہ خمس کے بعد ہوگا۔ یہ شرط ان پر اس لیے لگائی کہ وہ اسی پر راضی ہوئے اور اسی پر جہاد کیا اور وہ گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن کہا : جو کوئی چیز پکڑے وہ اسی کی ہے اور یہ حکم خمس کے نزول سے پہلے کا ہے اور میں نہیں جانتا کہ ہمارے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں کچھ ثابت ہو۔