(۱۲۸۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ بَکْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا تَقُولُونَ فِی ہَؤُلاَئِ الأُسَارَی؟ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَوْمُکَ وَأَصْلُکَ اسْتَبْقِہِمْ وَاسْتَتِبْہُمْ لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ۔ وَقَالَ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَذَّبُوکَ وَأَخْرَجُوکَ قَدِّمْہُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَہُمْ۔ وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنْتَ فِی وَادٍ کَثِیرِ الْحَطَبِ فَأَضْرِمِ الْوَادِی عَلَیْہِمْ نَارًا ثُمَّ أَلْقِہِمْ فِیہِ قَالَ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ شَیْئًا ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَقَالَ نَاسٌ یَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِی بَکْرٍ وَقَالَ نَاسٌ : یَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ وَقَالَ نَاسٌ : یَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ لَیُلَیِّنُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِیہِ حَتَّی تَکُونَ أَلْیَنَ مِنَ اللَّبَنِ وَإِنَّ اللَّہَ لَیُشَدِّدُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِیہِ حَتَّی تَکُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ کَمَثَلِ إِبْرَاہِیمَ قَالَ { مَنْ تَبِعَنِی فَإِنَّہُ مِنِّی وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ } وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ کَمَثَلِ عِیسَی قَالَ {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرَ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا عُمَرُ مَثَلُ مُوسَی قَالَ { رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِیمَ } وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا عُمَرُ کَمَثَلِ نُوحٍ قَالَ { رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا } أَنْتُمْ عَالَۃٌ فَلاَ یَنْفَلِتَنَّ أَحَدٌ مِنْہُمْ إِلاَّ بِفِدَائٍ أَوْ ضَرْبَۃِ عُنُقٍ ۔ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ سُہَیْلَ ابْنَ بَیْضَائَ فَإِنِّی سَمِعْتُہُ یَذْکُرُ الإِسْلاَمَ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَمَا رَأَیْتُنِی فِی یَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَیَّ حِجَارَۃٌ مِنَ السَّمَائِ مِنِّی فِی ذَلِکَ الْیَوْمِ حَتَّی قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِلاَّ سُہَیْلَ ابْنَ بَیْضَائَ ۔ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { مَا کَان لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی } إِلَی آخِرِ الثَلاَثِ آیَاتِ۔ [ضعیف]
(١٢٨٤٤) حضرت عبداللہ (رض) کہتے ہیں : جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کی قوم اور آپ کی اصل ہیں۔ ان کو باقی رکھیں اور ان سے توبہ کروائیں۔ شاید اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کو نکالا، ان کو پیش کریں اور ان کی گردنیں اتاریں۔ عبداللہ بن رواحہ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ زیادہ لکڑیوں والی وادی میں ہیں، آپ وادی میں آگ جلائیں اور ان کو اس میں ڈال دیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے، کوئی جواب نہ دیا، پھر کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا : ابوبکر (رض) کی بات پر عمل کرلیں اور بعض نے کہا : عمر (رض) کی بات پر عمل کرلیں اور بعض نے کہا : ابن رواحہ (رض) کی بات پر عمل کرلیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر نکلے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بعض آدمیوں کے دلوں کو اس بارے میں نرم رکھا ہے حتیٰ کہ دودھ سے بھی نرم اور بعض کے دلوں کو سخت رکھا ہے، حتیٰ کہ پتھر سے بھی زیادہ سخت اور اے ابوبکر ! تیری مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سی ہے۔ انھوں نے کہا تھا : { مَنْ تَبِعَنِی فَإِنَّہُ مِنِّی وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ } اور اے ابوبکر ! تیری مثال عیسیٰ (علیہ السلام) کی سی ہے۔ انھوں نے کہا : {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرَ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ } اور اے عمر ! تیری مثال موسیٰ (علیہ السلام) کی ہے انھوں نے کہا : { رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِیمَ } اور اے عمر ! تیری ! مثال نوح (علیہ السلام) کی سی ہے، انھوں نے کہا : َ { رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا } تم اس پر نگران ہو، پس کسی کو نہ چھوڑنا مگر فدیے سے یا قتل کردینا۔ ابن مسعود (رض) کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مگر سہیل بن بیضائ ! میں نے سنا ہے وہ اسلام کا تذکرہ کرتا ہے، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں نے اس دن سے زیادہ خوف والا دن اپنے اوپر نہ دیکھا تھا، جیسے مجھ پر آسمان سے پتھر گر رہا ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : مگر سہیل بن بیضائ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { مَا کَان لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی }۔