(۱۲۸۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَمَّا بَعَثَ أَہْلُ مَکَّۃَ فِی فِدَائِ أَسْرَائہُمْ بَعَثَتْ زَیْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی فِدَائِ أَبِی الْعَاصِ وَبَعَثَتْ فِیہِ بِقِلاَدَۃٍ کَانَتْ خَدِیجَۃُ أَدْخَلَتْہَا بِہَا عَلَی أَبِی الْعَاصِ حِینَ بَنِی عَلَیْہَا فَلَمَّا رَآہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَقَّ لَہَا رِقَّۃً شَدِیدَۃً وَقَالَ : إِنْ رَأَیْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَہَا أَسِیرَہَا وَتَرُدُّوا عَلَیْہَا الَّذِی لَہَا فَافْعَلُوا ۔ قَالُوا : نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَأَطْلَقُوہُ وَرَدُّوا عَلَیْہِ الَّذِی لَہَا وَقَالَ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ مُسْلِمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اللَّہُ أَعْلَمُ بِإِسْلاَمِکَ فَإِنْ یَکُنْ کَمَا تَقُولُ فَاللَّہُ یُجْزِیکَ فَافْدِ نَفْسَکَ وَابْنَیْ أَخَوَیْکَ نَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَقِیلَ بْنَ أَبِی طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَحَلِیفَکَ عُتْبَۃَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَحْدَمٍ أَخُو بَنِی الْحَارِثِ بْنِ فِہْرٍ ۔ فَقَالَ : مَا ذَاکَ عِنْدِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَأَیْنَ الْمَالُ الَّذِی دَفَنْتَ أَنْتَ وَأُمُّ الْفَضْلِ فَقُلْتَ لَہَا إِنْ أُصِبْتُ فَہَذَا الْمَالُ لِبَنِیَّ الْفَضْلِ وَعَبْدِ اللَّہِ وَقُثَمَ ۔ فَقَالَ : وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُہُ إِنَّ ہَذَا لِشَیْئٌ مَا عَلِمَہُ أَحَدٌ غَیْرِی وَغَیْرُ أُمِّ الْفَضْلِ فَاحْتَسِبْ لِی یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَصَبْتُمْ مِنِّی عِشْرِینَ أُوقِیَّۃٍ مِنْ مَالٍ کَانَ مَعِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَفْعَلُ ۔ فَفَدَی الْعَبَّاسُ نَفْسَہُ وَابْنَیْ أَخَوَیْہِ وَحَلِیفَہُ وَأَنْزَلَ اللَّہُ فِیہِ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی أَیْدِیکُمْ مِنَ الأَسْرَی إِنْ یَعْلَمِ اللَّہُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا یُؤْتِکُمْ خَیْرًا مِمَّا أَخَذَ مِنْکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} فَأَعْطَانِی اللَّہُ مَکَانَ الْعِشْرِینَ الأَوْقَیَّۃِ فِی الإِسْلاَمِ عِشْرِینَ عَبْدًا کُلُّہُمْ فِی یَدِہِ مَالٌ یَضْرِبُ بِہِ مَعَ مَا أَرْجُو مِنْ مَغْفِرَۃِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ کَذَا َدَّثَنَا بِہِ شَیْخِنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی کِتَابِ الْمُسْتَدْرِکَ۔ [حسن]
(١٢٨٤٩) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو زینب بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوالعاص کے فدیے میں وہ ہار بھیجا جو حضرت خدیجہ نے زینب کو ابوالعاص سے شادی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھا تو آپ پر رقت طاری ہوگئی، آپ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو زینب کے قیدی کو چھوڑ دو اور اس کا فدیہ بھی لوٹا دو ۔ انھوں نے کہا : ہاں۔ اے اللہ کے رسول ! پس انھوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا فدیہ لوٹا دیا۔ حضرت عباس (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں مسلمان ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تیرے اسلام کو بہتر جانتا ہے۔ اگر واقعی ایسے ہی ہے تو اللہ تجھے اس کی جزاء دے گا، پس اپنا اور اپنے دو بھتیجوں نوفل بن حارث اور عقیل بن ابی طالب اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو بن حارث کے بھائی کا فدیہ دو ۔ عباس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : وہ مال کہاں جائے گا، جو تو اور ام فضل نے دفن کیا تھا اور تو نے اسے کہا تھا : اگر میں مرجاؤں تو یہ مال فضل کے بیٹوں عبداللہ اور قثم کا ہے۔ عباس نے کہا : اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! میں جان چکا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ ایسی چیز تھی جسے میرے اور ام فضل کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا، پس میرا فدیہ لیں، اے اللہ کے رسول ! جو بیس اوقیہ بنتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : میں لیتا ہوں۔ پس عباس نے اپنا، دو بھتیجوں اور اپنے حلیفہ کا فدیہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی أَیْدِیکُمْ مِنَ الأَسْرَی إِنْ یَعْلَمِ اللَّہُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا یُؤْتِکُمْ خَیْرًا مِمَّا أَخَذَ مِنْکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} پس اللہ نے مجھے بیس اوقیہ کے بدلے بیس غلام دیے اسلام میں۔ سب پر ان کی ملکیت تھی جن سے وہ اللہ سے مغفرت کی امید کرتے تھے۔