(۱۲۸۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ وَخَالِدٍ وَالزُّبَیْرِ بْنِ الْخِرِّیتِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَیْنَ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- وَہُوَ بِوَادِی الْقُرَی وَہُوَ یَعْرِضُ فَرَسًا فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا تَقُولُ فِی الْغَنِیمَۃُ قَالَ : لِلَّہِ خُمُسُہَا وَأَرْبَعَۃُ أَخْمَاسٍ لِلْجَیْشِ ۔ قُلْتُ : فَمَا أَحَدٌ أَوْلَی بِہِ مِنْ أَحَدٍ قَالَ : لاَ وَلاَ السَّہْمُ تَسْتَخْرِجُہُ مِنْ جَنْبِکَ لَیْسَ أَنْتَ أَحَقُّ بِہِ مِنْ أَخِیکَ الْمُسْلِمِ ۔ [ضعیف]
(١٢٨٦٢) عبداللہ بن شفیق بلقین کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ وادی قریٰ میں گھوڑے پر تھے، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! غنیمت کے بارے میں آپ کیا فرماتی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے لیے اس کا خمس ہے اور باقی چار حصے لشکر کے ہیں۔ میں نے کہا : کون ایک سے زیادہ حق دار ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں اور نہ کوئی حصہ جسے تو اپنی طرف سے نکالے تو اس کا اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔