(۱۲۸۷۹) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : لَمْ تَقَعِ الْقِسْمَۃُ وَلاَ السَّہْمُ إِلاَّ فِی غَزَاۃِ بَنِی قُرَیْظَۃَ کَانَتِ الْخَیْلُ یَوْمَئِذٍ سِتَّۃً وَثَلاَثِینَ فَرَسًا فَفِیہَا أَعْلَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سُہْمَانَ الْخَیْلِ وَسُہْمَانَ َعَلَی سُنَّتِہَا جَرَتِ الْمَقَاسِمُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَئِذٍ لِلْفَارِسِ وَفَرَسِہِ ثَلاَثَۃَ أَسْہُمٍ لَہُ سَہْمٌ وَلِفَرَسِہِ سَہْمَانِ وَلِلرَّاجِلِ سَہْمًا فَأَمَّا یَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ یَقَعْ فِیہِ السُّہْمَانُ وَلَمْ تَحْلِلْ لَہُمْ فِیہِ الْمَغَانِمُ حَتَّی کَانَ فِیہِ مِنَ اللَّہِ مَا کَانَ فَأَحَلَّہَا لَہُمْ بَعْدَ أَنْ کَادَ النَّاسُ یَہْلِکُوا فَقَالَ { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللَّہِ سَبَقَ} إِلَی آخِرِ الآیَتَیْنِ ثُمَّ کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ فَکَانَ عَامَ مُصِیبَۃٍ ثُمَّ کَانَ عَامُ الْخَنْدَقِ فَکَانَ عَامَ حِصَارٍ ثُمَّ کَانَتْ بَنُو قُرَیْظَۃَ فَعَلَی سُنَّتِہَا جَرَتِ الْمَقَاسِمُ إِلَی یَوْمِکَ ہَذَا۔ [ضعیف]
(١٢٨٧٩) عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں : تقسیم اور حصے غزوہ بنی قریظہ میں واقع ہوئے تھے۔ اس دن چھتیس گھوڑے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک گھوڑے کے لیے دو حصی اور پیدل آدمیوں کے لیے ایک ایک حصہ مقرر کیا۔ اسی پر تقسیم کا طریقہ چل نکلا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن گھوڑے والے اور گھوڑے کے لیے تین حصے۔ ایک حصہ اس کا اور دو حصے گھوڑے کے مقرر کیے اور پیدل کا بھی ایک حصہ مقرر کیا۔ لیکن بدر کے دن حصے واقع نہ ہوئے تھے اور نہ اس میں ان کے لیے غنیمتیں حلال تھیں، حتیٰ کہ قریب تھا کہ لوگ ہلاک ہوجاتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کیا، فرمایا : { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللَّہِ سَبَقَ } دو آیتوں کے آخر تک۔ پھر احد کے دن عام مصیبت تھی، پھر خندق کے دن عام گھیرا تھا۔ پھر غزوہ بنو قریظہ ہوا۔ پس اسی سے تقسیم کی سنت چل نکلی آج تک۔