(۱۲۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَنَا عِنْدَ عُمَرَ حِینَ اخْتَصَمَ إِلَیْہِ سَعْدٌ وَابْنُ عُمَرَ فِی الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ ، فَقَضَی لِسَعْدٍ ، فَقُلْتُ : لَوْ قُلْتُمْ بِہَذَا فِی السَّفَرِ الْبَعِیدِ وَالْبَرَدِ الشَّدِیدِ۔
فَہَذَا تَجْوِیزٌ مِنْہُ لِلْمَسْحِ فِی السَّفَرِ الْبَعِیدِ وَالْبَرَدِ الشَّدِیدِ بَعْدَ أَنْ کَانَ یُنْکِرُہُ عَلَی الإِطْلاَقِ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَنَّہُ أَفْتَی بِہِ لِلْمُقِیمِ وَالْمُسَافِرِ جَمِیعًا۔
(١٢٩١) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس وقت سیدنا سعد (رض) نے عمر (رض) کے پاس جھگڑا پیش کیا تو میں سیدنا عمر (رض) کے پاس تھا اور ابن عمر (رض) موزوں پر مسح کے قائل تھے۔ انھوں نے سیدنا سعد (رض) کے لیے فیصلہ کیا تو میں نے کہا : اگر تم کہتے ہو کہ دوردرازسفر اور سخت سردی میں مسح ہے تو یہ تجویز اس مسح کے متعلق ہے جو دور دراز سفر اور سخت سردی میں کیا جائے۔ وہ مطلقاً مسح کو ناپسند کرتے تھے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ انھوں نے مقیم اور مسافر دونوں کے لیے فتویٰ دیا۔