(۱۲۸۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُہَاجِرٍ حَدَّثَنِی عَقِیلُ بْنُ شَبِیبٍ عَنْ أَبِی وَہْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : عَلَیْکُمْ بِکُلِّ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ کُمَیْتٍ أَغَرَّ ۔ نَحْوَہُ قَالَ مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ مُہَاجِرٍ فَسَأَلْتُہُ لِمَ فَضَّلَ الأَشْقَرَ؟ قَالَ : لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَ سَرِیَّۃً فَکَانَ أَوَّلُ مَنْ جَائَ بِالْفَتْحِ صَاحِبَ أَشْقَرَ۔ [ضعیف]
(١٢٨٩٨) ابو وہب کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گہرے سرخ زرد رنگ کے گھوڑے کو لازم پکڑو چمک دار یا سرخی سیاہی مائل چمکدار۔ محمد راوی کہتے ہیں : میں نے ابن مہاجر سے پوچھا، آپ نے اشقر کو کیوں فضیلت دی ؟ انھوں نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر روانہ کیا تھا، پس جو پہلا شخص فتح کے ساتھ آیا تھا وہ اشقر گھوڑے والا تھا۔