(۱۲۹۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مِہْرَانَ الثَّقَفِیُّ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْجُنَیْدِ الْمَالِکِیُّ بِالرَّیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِمِصْرَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ الْقُرَشِیُّ أَخْبَرَنِی عَاصِمُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی عَمْرٍو السَّیْبَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الدَّیْلَمِیِّ أَنَّ یَعْلَی بْنَ مُنَیَّۃَ قَالَ : آذَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْغَزْوِ وَأَنَا شَیْخٌ کَبِیرٌ لَیْسَ لِی خَادِمٌ فَالْتَمَسْتُ أَجِیرًا وَأُجْرِی لَہُ سَہْمَہُ فَوَجَدْتُ رَجُلاً فَلَمَّا دَنَا الرَّحِیلُ أَتَانِی فَقَالَ : مَا أَدْرِی مَا السُّہْمَانُ وَمَا یَبْلُغُ سَہْمِی فَسَمِّ لِی شَیْئًا کَانَ السَّہْمُ أَوْ لَمْ یَکُنْ فَسَمَّیْتُ لَہُ ثَلاَثَۃَ دَنَانِیرَ فَلَمَّا حَضَرَتْ غَنِیمَۃٌ أَرَدْتُ أَنْ أُجْرِی لَہُ سَہْمَہُ فَذَکَرْتُ الدَّنَانِیرَ فَجِئْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرْتُ لَہُ أَمْرَہُ فَقَالَ : مَا أَجِدُ لَہُ فِی غَزْوَتِہِ ہَذِہِ فِی الدُّنْیَا أَظُنُّہُ قَالَ وَالآخِرَۃِ إِلاَّ دَنَانِیرَہُ الَّتِی سَمَّی۔ [حسن]
(١٢٩٠٦) یعلی بن منیہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوے کا اعلان کیا، میں بوڑھا تھا، میرا کوئی خادم بھی نہ تھا، پس میں نے کوئی مزدور تلاش کیا اور سوچا اسے اجرت دے دوں گا، پس میں نے ایک آدمی کو پایا۔ جب وہ میرے پاس آیا، غزوے پر جانے کے وقت تو اس نے کہا : میں نہیں جانتا کہ حصہ کتنا ہوگا اور مجھے کتنا ملے گا، پس میرے لیے کچھ مقرر کر دو کہ حصہ ہو یا نہ ہو مجھے وہ مل جائے گا، میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کردیے جب غنیمت آئی تو میں نے ارادہ کیا کہ اسے اس کا حصہ دے دوں۔ مجھے دنانیر یاد آئے۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس کے لیے اس غزوے میں دنیا میں اور راوی کا خیال ہے آخرت کا لفظ بھی بولا اور آخرت میں۔ صرف اس کے مقرر کردہ دینار پاتا ہوں۔